صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1440 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,797

سوال (Question):

لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لکھا طلاق لے طلاق لے تو کون سی طلاق پڑی؟

مسئلہ:- از: فاروق احمد تجوری والے ، تجوری گلی ، اندور۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے ممبئی سے اپنی بیوی کو ایک تحریر بھیجیں جس میں لکھا کہ طلاق لے لو۔ طلاق لے لو ۔ تو اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں اگر پڑی تو کونسی طلاق پڑی؟ الجوابــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں تحریر مذکور اگر واقعی شوہر نے لکھی ہے تو اس کی بیوی پر اگر دخولہ ہے تو طلاق رجعی پڑ گئی عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ اپنے رسالہ مبارکہ رفیق الاحقاق میں طلاق رجعی کے کلمات کو لکھتے ہوئے نمبر ۱۹ پر تحریر فرماتے ہیں:” طلاق لے ۔ فی رد المختار ۔ خذی طلاقک فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بلا اشتراط نية . كما في الفتح . وكذا لا يشترط قولها اخذت ۔ كما في البحر. ( فتاوى رضوية جلد پنجم صفحہ ٥٠٩) الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی کتبــــــــــــــــــــہ: محمد ابرار احمد امجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh