صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1243 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,537

سوال (Question):

مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مائک میں تلاوت کی اواز آئے تو کام چھوڑ کر سننا ضروری ہے ؟

السوال :- آپ علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے؟ قرآن مجید مکان کے اندر لاؤڈ اسپیکر میں تلاوت ہو سننے والے پاس میں سنے یہ تو ثواب اور نیک کام ہے– لیکن وہ آواز پورے گاؤں میں سنائی دے اور آبادی کے حساب سے نا سننے والوں کی تعداد زیادہ ہو اور سننے والوں کی تعداد بہت کم ہو اور انہی کم تعداد والوں کا حکم ہو کہ لاؤڈ اسپیکر میں پڑھی جاۓ تاکہ گھر سے باآسانی سن سکیں؟علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں ! جزاك الله خيراً ۔ السائل_:عارف حسين برکاتی ۔ نچلول، مہراجگنج، یوپی۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بتوفیق الملک الوھاب قرآن مجید کی تلاوت آواز سےکرنابہترہےمگر اتنی آواز سے کہ کسی کے کام کاج میں خلل ہو یاتلاوت قرآن سننے کے لۓ بوجہ شغل ہمہ تن گوش نہ ہو سکےگا تو ان صورتوں میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہے۔تاہم لا ؤڈ اسپیکر سے آواز کو اونچی کرنےاور دور تک پہونچانےکا کام لیا جاتا ہے اس لۓ اس آبادی کے کچھ فارغ لوگوں کےقرآن کریم کی آیت پرکان دھرنے سے “فاستمعوا” کے وجوب پرعمل ہو جاۓگا۔ اور اس کاادب و وقار بھی ملحوظ رہےگا،باقی لوگ بوجہ شغل کاربے ادب وگنہ گار نہ ہونگے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں قرآن مجید کی تلاوت آواز سے کرنابہترہےمگرنہ اتنی آواز کہ اپنےآپ کوتکلیف یاکسی نمازی یا ذاکرکےکام میں خلل ہو یا کسی جائزنیند سونے والے کی نیند میں خلل آۓ یاکسی بیمارکو تکلیف پہونچےیا بازار کا سرایا عام سڑک ہو یا لوگ اپنےکام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لۓ حاضر نہ رہےگا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنےکا حکم ہے ۔ لہذا لاؤڈاسپیکر سے سنی جانے والی قرأت قرآن کی سماعت فارغ از کار لوگوں نے کرلی تو یہ سننا جائز ہوگا۔ اور باقی کا بوجہ حاجت نہ سننا باعث گناہ نہ ہوگا  ۔ (فتاوی رضویہ ج دہم نصف آخرص١٣٣) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــہ : مفتی منظورالقادری،خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh