صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #116 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مالداروں کو صدقہ فطر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مفتی محمد نظام الدین قادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,719

سوال (Question):

مالداروں کو صدقہ فطر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مفتی محمد نظام الدین قادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

 

مالداروں کو صدقہ فطر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عنوان
استاذ العلماء حضرت مفتی محمدنظام الدین صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ فطرہ کی مقدار کیا ہے؟ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایئے کہ کیا ہر امیر غریب گیہوں کے اعتبار سے صدقہ فطر دے سکتا ہے ۔اگر دوسری چیزوں کے اعتبار سے دینے کی استطاعت رکھنے کے باوجود گیہوں سے ہی ادا کرے تو کیا حکم ہے. واضح فرما کر مشکور ہوں. المستفتی محمد ثاقب رضا ممبئی الجواب ۔                 احادیث میں صدقہ فطر کی مقدار چار چیزوں سے متعین کی گئی ہے (١) ایک صاع جو (٢) ایک صاع کھجور(٣) ایک صاع منقّی(۴) آدھا صاع گیہوں ۔             صحیح البخاری میں “ابواب صدقة الفطر” کے “باب صاع من زبیب” میں ہے : “عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہ کنا نعطیہا فی زمان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صاعا من طعام او صاعا من تمر او صاعا من شعیر او صاعا من زبیب۔ فلما جاء معاویة وجاءت السمراء قال اری مدّاً من ہذا یعدل مُدّینِ”               (یعنی: صحابی رسول علیہ السلام حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ہم صحابہ کرام، نبی اگرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں کھانے کی چیزوں سے ایک صاع (یعنی) کھجور سے ایک صاع،جو سے ایک صاع،اور منقی سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر جب امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت آیا اور گیہوں آنے لگا تو انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک مُدْ گیہوں دو مُد جو کے برابر ہے ۔)                اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اس قرار داد کو صحابہ کرام نے تسلیم کیا اس لیے اس پر صحابہ کرام کا اتفاق ہوگیا ۔          مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص، حدیث میں مذکور ان چار چیزوں میں سے کسی ایک سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہے تو اس کو وہ مقدار دینا ضروری ہے جس کا حدیث میں بیان ہے ۔            اور ہمارے ائمہ کرام نے یہ بھی اختیار دیا کہ ان چاروں چیزوں میں سے کسی ایک کی قیمت دے کر بھی صدقہ فطر ادا کرسکتا ہے ۔ بلکہ قیمت دینا افضل ہے ۔ یوں ہی ان چاروں چیزوں کے علاوہ دیگر اناجوں سے بھی صدقہ فطر ادا کرسکتاہے اور اس صورت میں اُن چار چیزوں میں سے کسی ایک کی قیمت کا اعتبار ضروری ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی چاول یا مسور یا چنا سے صدقہ فطر ادا کرنا چایے تو ضروری ہے کہ اس چاول وغیرہ کی قیمت ایک صاع (یعنی :چار کلوچورانوے گرام )جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع منقی یا آدھے صاع (یعنی: دو کلو سینتالیس گرام) گیہوں کی قیمت کے برابر ہو ۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:     “تجب نصف صاع من بر او دقیقہ او سویقہ او زبیب او صاع تمر او شعیر ولو ردیئا، وما لم ینص علیہ کذرة وخبز یعتبر فیہ القیمة، ودفع القیمة افضل من دفع العین علی المذھب” (الدر المختار ملتقطا ص ٣١٨ الی ٣٢٢) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “صدقۂ فطر کی مقدار یہ ہے گیہوں یا اس کا آٹا یا ستّو نصف صاع، کھجور یا منـقے یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو ایک صاع” (بہار شریعت حصہ ۵) اور تحریر فرماتے ہیں: “ان چار چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو” (بہار شریعت حصہ ۵)             مذکورہ بالا تفصیلات سے واضح ہے کہ اگر امیروں نے بھی نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت کا روپیہ یا کوئ دوسرا غلہ دے دیا تو صدقہ فطر سے بری الذمہ ہوجائیں گے ۔        لیکن اغنیاء اور مالداروں کے لیے یہ ضرور بہتر ہے کہ وہ قیمت میں اس کا اعتبار کریں، جس میں فقیروں کا زیادہ نفع ہو، اسی وجہ سے ایک قول مفتی بہ کے مطابق قیمت دینا افضل کہا گیا ہے کہ روپیہ پیسہ سے فقیروں محتاجوں کی ہر طرح کی ضرورتیں زیادہ پوری ہوسکتی ہیں ۔           یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جس طرح عام دنیاوی معاملات، یعنی کھانے، پہننے اور رہائش اور سواری کے ذرائع وغیرہ امور میں اغنیاء اپنی شان بلند رکھنے میں بڑا ہتمام کرتے ہیں، ایک متوسط درجہ کا آدمی ساٹھ ستر روپیہ میٹر والا کپڑا پہن کر زندگی گزار لیتا ہے،لیکن مالدار لوگ ہزار دو ہزار روپیہ میٹر سے کم قیمت والے کپڑے پہننےمیں اپنی کسرِ شان سمجھتے ہیں۔         ایک عام آدمی کھانے میں دال چاول سبزی پرگزارہ کرلیتا ہے،لیکن عشرت پسندوں کا دستر خوان جب تک رنگا رنگ کھانوں سے آراستہ نہ ہو انھیں آسودگی نہیں ہوتی۔ اسی طرح دیگربہت سارے امور میں بھی وہ اپنی رفعِ شان کی تدبیریں کرتے ہیں، لہذا صدقہ فطر کی ادائیگی میں بھی انھیں اپنی حیثیت کا خیال مناسب ہے( وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون ) اس لیے اگر مالدار طبقہ کے لوگ، اعلی درجہ کی چار کلو سو گرام کھجور کی قیمت، یا چار کلو سو گرام منقی کی قیمت سے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا صدقہ فطر ادا کریں تو اس طریقہ کے افضل اور بہتر ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا ۔ کیوں کہ اس میں محتاجوں فقیروں کی زیادہ نفع رسانی اور حاجت روائی ہے۔ واللہ الموفق لکل خیر، وہو تعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی،بستی ٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١٢/مئی ٢٠٢١ء

کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

صوفیاے کرام کو مشرک کہنا / حضور کا علم غیب نہ ماننے والے کا حکم

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh