Fatwa #1484
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,885
سوال (Question):
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟
سوال:- مال مرہون کی زکوۃ راہن پر ہے یا مرتہن پر؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب مال مرہون کی زکات نہ مرتہن پر ہے نہ راہن پر مرتہن پر اس لیے نہیں کہ وہ مالک نہیں ہے اور راہن پر اس لیے نہیں کہ مال اس کے قبضہ میں نہیں جبکہ وجوب زکات کے لیے ملک اور قبضہ دونوں لازم ہیں ۔ رد المحتار میں ہے “ولا في مرهون أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد”(ج ۳ ص ۱۸۰) اور فتاوی عالمگیری میں ہے “ولا على الراهن اذا كان الرهن فى يد المرتهن هكذا فى البحر الرائق”(ج ۱ ص ۱۷۲) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9