صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1958 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مبارکپور کے عوام طلبہ اشرفیہ کا احترام مولانا قمرالزما خان اعظمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,259

سوال (Question):

مبارکپور کے عوام طلبہ اشرفیہ کا احترام مولانا قمرالزما خان اعظمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مبارکپور کے عوام طلبہ اشرفیہ کا احترام

حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ سرفروشان ملت اسلامیہ کی تعلیم و تربیت کیلۓ ایک ایسے قصبے کا انتخاب کیا جو ابھی تک ہر طرح کی غیر دینی آلائشوں سے پاک تھا جہاں کے غریب لوگ سرمایہ سے زیادہ خون جگر پیش کرسکتے تھے۔ مگر اشرفیہ کے ارتقا کی تاریخ شاہد ہے کہ مساکین مبارکپور نے حضور حافظ ملت کی قیادت میں اپنا مال و زر بھی پیش کیا اور خون جگر بھی اور دیکھتے ہی دیکھتے مدرسہ اشرفیہ دارالعلوم اشرفیہ کی صورت میں درس نظامیہ کی سب سے عظیم اور سب سے میعاری درسگاہ بن گیا اور یہ کہا جاۓ تو غلط نہ ہوگا کہ آپ نے مبارکپور کو بغداد، قرطبہ، قاہرہ، شیراز، اصفہان سمرقند و بخارا اور دہلی کی قدیم درس گاہوں کی ہمدوش کردیا ممکن ہے کوئی شخص کمیت کے بارے میں شبہ کرے مگر کیفیت کا یہ عالم ہے کہ ہندوستان کے کئی کروڑ مسلمانوں میں سے کم ازکم نصف سے زیادہ مسلمانوں کی دینی ضروریات کا واحد کفیل الجامعتہ الاشرفیہ ہے حضور حافظ ملت کی آغوش تربیت میں پروان چڑھنے والے طلبہ نے زندگی کے جس میدان میں قدم رکھا کامیابیوں نے ان کے قدم چومے دارالعلوم اشرفیہ کے علماء نے ملت کو حقیقی اسلام کی طرف دعوت دی، ان کے خطبات اور تقریریں ایک طرف رسول پکﷺ کے نظامِ رحمت کی دعوت کا آئینہ دار ہوتیں تو دوسری طرف ان تمام حریف قوتوں کا دندان شکن جواب بھی ہوتی تھیں۔۔ طلبہ کے اندر احساس برتری پیدا فرمایا قوم کے اندر مہمانان رسول کی حیثیت سے انکا تعارف کرایا اور عوام سے مطالبہ فرمایا کہ وہ طلبہ کا احترام کریں چنانچہ مبارکپور کے عوام نے طلبہ کو اس قدر احترام کی نگاہ سے دیکھا کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکے گی۔ ہندوستان کی تمام درسگاہوں میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان خادم و مخدوم کا رشتہ ہوتا مگر الجامعتہ الاشرفیہ کے مخدوم گرامی وقار نے اپنے طلبہ کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز تصور فرمایا، اور طلبہ کو اتنی محبت عطا فرمائی کہ وہ اپنے حقیقی والدین کی محبت اور اُن کی عنایتوں پہ قربان کردیں، حافظ ملت اپنے شاگردوں کو کبھی تم کہکر نہیں بلاتے بلکہ اپنے شاگردوں کو مولانا کہکر مخاطب فرمایا کرتے تھے یہی وجہ کہ آج بھی اشرفیہ کے جملہ اساتذہ اپنے طلبہ کو اسی طرح یاد کرتے ہیں جسطرح حضور حافظ ملت یاد فرمایا کرتے تھے۔ مولانا قمرالزما خان اعظمی (حافظ ملت نمبر) پیش کش: محمد حارث نوید مصطفائی مبارکپوری
کیا نبیﷺ کا علم بدلنا ممکن ہے؟ از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
یا محمد کہنے کا حکم از حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh