Fatwa #1506
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,270
سوال (Question):
متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
متولی مسجد کا مالک نہیں از علامہ کمال احمد علیمی نظامی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں ہمارے علاقے میں ایک مسجد کے متولی نے کہا یہ مسجد میری ملکیت ہے اور میں اس کا مالک ہوں ہو یہاں صرف میری حکومت چلے گی ز ید جو اس مسجد کے پاس میں ہی رہتا ہے ہے اور اس مسجد کا سابق امام بھی ہے اس نے مسجد میں جانا ترک کر دیا ہے ہے اور کہتا ہے کہ اس مسجد میں نماز درست نہیں ہے کیوںکہ متولی نے اسے اپنی ملکیت بنالی ہے جواب طلب امر یہ ہی کہ کیا زید کا قول درست ہے اور اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں بینواتوجروا …محمد فاروق رضا بیگ رضوی الجواب بعون الملک الوھاب متولی کا یہ کہنا کہ” یہ مسجد میری ملکیت ہے اور میں اس کا مالک ہوں ہو یہاں صرف میری حکومت چلے گی”محض باطل ہے. قرآن مجید میں ہے : وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (سورۃ الجن :١٨) امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ” اور متولی کا کہنا کہ مسجد ہماری ہے ہم جو چاہیں کریں محض باطل ہے،مسجدیں ﷲ عزوجل کی ہیں ان المسٰجد للہ فلا تدعوا مع ﷲ احدا (یقینا مسجدیں ﷲ تعالٰی کی ہیں تو ﷲ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔) اُس میں وہی کیا جائے گا جوبحکم شرع ہے اور اس کا یہ زعم باطل ہے کہ مقتدی پُوچھ نہیں سکتے بلکہ امام ومؤذن مقرر کرنے میں متولی کا اختیار نہیں جبکہ خود بانی مسجد اس کے اقارب میں نہ ہو امام ومؤذن کے نصب میں پہلا اختیار بانی پھر اس کی اولاد واقارب کا ہے اور دوسرااختیار مقتدیوں کاہے یہ بھی جبکہ جس کو بانی مقرر کرنا چاہتا ہے اور جسے مقتدی چاہتے ہیں دونوں یکساں ہوں، اور اگر جسے یہ چاہتے ہیں وہی شرعاً اولیٰ ہے تو انھیں کا اختیار مانا جائے گا متولی اس بارے میں کوئی چیز نہیں۔(٦ کتاب الصلوۃ ص ٦١٤) مزید فرماتے ہیں : مال وقف پر دعوٰی ملک تو کسی کو نہیں ہوسکتا، ہاں دعوٰی تصرف متولی کو ہے، اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے، اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے، وﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ ج ١٦ ص ١٥٠) جب یہ ثابت ہوگیا کہ مسجد کسی کی ذاتی ملکیت نہیں تو سابق امام زید کا اس مسجد میں نہ جانا اور یہ کہنا کہ اس میں نماز صحیح نہیں غلط ہے. قرآن مجید میں ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرۃ :١١٤) تفسير الألوسي روح المعانی میں ہے: “وكني بذكر اسم الله تعالى عما يوقع في المساجد من الصلوات والتقربات إلى الله تعالى بالأفعال القلبية والقالبية المأذون بفعلها فيها. وسعى في خرابها أي هدمها وتعطيلها”(١/ ٣٦٢) تفسير الرازي میں ہے: “المسألة الخامسة: السعي في تخريب المسجد قد يكون لوجهين. أحدهما: منع المصلين والمتعبدين والمتعهدين له من دخوله فيكون ذلك تخريبا. والثاني: بالهدم والتخريب”(٤/ ١٢) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٩ رجب ١٤٤٣/ ٢ مارچ ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9