صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #334 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں | تیمم کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,545

سوال (Question):

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں | تیمم کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

متیمم کا سوتے ہوے پانی پر گزر ناقض وضو نہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ علیہ

سوال : مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حالت تیمم سواری پر سوتے ہوے پانی کے پاس سے گزر جاے تو اس کا تیمم ٹوٹ جائیگا یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مع حوالہ کرم ہوگا۔

المستفتی:محمد ارشد القادری غازی آباد

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب :

                    پانی کے قریب سے سوتے ہوے گزنا ناقض تیمم نہیں تیمم حدث کا ہو یا جنابت کا گزرنے والا سوار ہو یا پیدل البتہ نیند اس حد کی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو حدث کا تیمم ٹوٹ جاےگا نیند کے سبب نہ کہ پانی کے پاس سے گزرنے کے سبب۔

ہندیہ میں ہے “ﻭﻟﻮ ﻣﺮ ﺑﻤﺎء ﻭﻫﻮ ﻧﺎﺋﻢ ﻓﺎﻷﺻﺢ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻨﺘﻘﺾ ﻋﻨﺪ اﻟﻜﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺰاﻫﺪﻱ” (ج١،ص٣٠)

بہار شریعت میں ہے “پانی کے پاس سے سوتا ہوا گذرا تیمم نہیں ٹوٹا ہاں اگر تیمم وُضو کا تھا اور نیند اس حد کی ہے جس سے وُضو جاتا رہے تو بیشک تیمم جاتا رہا مگر نہ اس وجہ سے کہ پانی پر گذرا بلکہ سو جانے سے اور اگر اونگھتا ہوا پانی پرگذرا اور پانی کی اطلاع ہو گئی تو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں”(ح٢،ص٣٦٤)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری | ٢١جولائی٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh