صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1346 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

محض نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنےسے نکاح نہیں ہوسکتا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,572

سوال (Question):

محض نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنےسے نکاح نہیں ہوسکتا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

محض نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنےسے نکاح نہیں ہوسکتا

سوال :کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل میں کہ ایک لڑکی کے گھر چند لوگ آتنگوادی بنکررات میں آئے اور لڑکی کے ماں باپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی پھر لڑکی کو اپنے ساتھ لےگئے ٢٥دن بعدلڑکی کا پتہ چلا جب لڑکی سے ماں باپ کی ملاقات ہوئی اس نے کہا میرے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے مجھے ان سے بچالو ۔ جب لڑکی اور لڑکے کو پولیس والے کورٹ میں لیگئے تو جج کے سامنے لڑکی نے لڑکے کے خلاف بیان دیا لڑکا اب جیل میں ہے ۔ جب نکاح کے بارے میں پوچھا تو لڑکی نے کہا مجھے ایک کمرے میں بند کردیا اور چار پانچ آدمی آئے ان میں ایک مولوی تھا اس نے اپنے منہ پررومال رکھا ہوا تھا مجھ سے کہا اس لڑکے کے ساتھ نکاح پڑھو لڑکی نے کہا مجھے مار ڈالو میں نکاح نہیں پڑھوں گی پھر ان لوگوں نے کہا ہم تمہیں بیچ دیں گے چلو نکاح نہیں پڑھتی تو نہ پڑھ اس رجسٹر پر دستخط کردے لڑکی نے ڈر کے مارے نکاح کے رجسٹر پر دستخط کردی لڑکی اب ماں باپ کے گھر پر ہے ایک دوسری جگہ سے اس کا رشتہ آرہاہے تو کیا اس کا پہلا نکاح ہوا یا نہیں کیا دوسری جگہ نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں عین نوازش ہوگی ۔ المستفتی محمد اقبال بنڈی ضلع راجوری جموں و کشمیر انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی اگر واقعی ھندہ نے زبان سے قبول نہیں کیا ہے بلکہ صرف نکاح نامہ پر دستخط کیا ہے تو نکاح منعقد نہیں ہوا کہ زبر دستی نکاح کرنے کی صورت میں زبانی قبول کرنا ضروری ہے فعلا قبول کرنے سے انعقاد نکاح نہیں ہوتا کما فی الدرالمختار : ” وصح نکاحہ و طلاقہ وعتقہ لو بالقول لا بالفعل ” اھ (جلد٩ صفحہ٢٣١، کتاب الاکراہ) اور اس وجہ سے بھی کہ مُکْرَہ (مجبور)جب مُکْرِہ (مجبور کرنے والے)کا آلہ بن سکے تو مُکْرَہ ( مجبور) کے کام کی نسبت مُکْرِہ (مجبور کرنے والے) کی طرف ہوگی اور یہاں یہی صورت ہے یعنی لڑکی مجبور کرنے والے کے لکھنے کاآلہ بن سکتی ہے تو لڑکی کے لکھنے ( دستخط کرنے) کی نسبت مجبور کرنے والے کی طرف ہوگی اس لئے لڑکی کا دستخط کرنا اس کی جانب سے اذن نکاح نہ ہوا ۔ نور الانوار میں ہے : ” لا ینافی الاکراہ اختیار المکرہ بالفتح لکن الاختیار فاسد فاذا عارضہ اختیار صحیح وھو اختیار المکرہ بالکسر وجب ترجیح الصحیح علی الفاسد ان امکن کما فی الاکراہ علی القتل واتلاف المال حیث یصلح المکرہ بالفتح ان یکون آلۃ للمکرہ بالکسر فیضاف الفعل الی المکرہ بالکسر و یلزمہ حکمہ ” اھ ( نور الانوار جلد٢ صفحہ٢١١ باب القیاس ، بیان الاکراہ واقسامہ ، مکتبۃ البشری)۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh