صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1255 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

محمد آدم نام رکھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,915

سوال (Question):

محمد آدم نام رکھنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

محمد آدم نام رکھنا کیسا ہے ؟

کسی بچے کانام محمد آدم رکھنا کیسا ہے ؟ الجواب بعون الملک الوھاب جائز ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نام اقدس اور انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنے کی تعلیم فرمائی ہے ۔ بخاری شریف میں ہے:” عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي “ (حدیث نمبر١١٠ کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ) یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ سنن ابی داؤد میں حضرت ابو وہب جشمی سے مروی ہے : ” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، “ ( کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء حدیث نمبر ٤٩٥٠ ) یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں: ” علی جان، محمدجان کا جوازتو ظاہر کہ اصلی نام علی ومحمدہے اورجان بنظرمحبت زیادہ، اورحدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا و انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم ج٢٤ص٦٨٦ کتاب الحظر و الاباحۃ رسالہ النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔ ٢٠ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ مطابق ٢٤ جنوری ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh