Fatwa #929
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مرتد کی نماز جنازہ پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,900
سوال (Question):
مرتد کی نماز جنازہ پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مرتد کی نماز جنازہ پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے؟
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مرتد کی نماز جنازہ پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب : مرتد کی نماز جنازہ پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا حرام ہے، وگناہ شدید اور بربنائے مذہب صحیح کفر ہے ۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے : “وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِۦٓ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمْ فَٰسِقُونَ” اھ ترجمئہ کنزل الایمان: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مرگئے ۔ (القرآن: السورۃ التوبۃ : آیت: 84، پارہ: 10) اللہ تعالٰی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے : “مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ” اھ ترجمہ: کنزالایمان نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جب کہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔ (القرآن: السورۃ التوبة : آیت: 113، پارہ 11) حدیث پاک میں ہے : ” وان مرضوا فلا تعودوھم وان ماتوا فلا تشھدوھم وان لقیتموھم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم” اھ ترجمہ: بدمذہب اگر بیمار پڑیں تو پوچھنے مت جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو جنازہ پر حاضر نہ ہو۔ اور جب ان سے ملو تو سلام نہ کرو۔ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ ( یہ حدیث شریف سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، عقیلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے بحوالہ فتاویٰ فیض الرسول ج: 1 ،ص 604،دار الاشاعت فیض الرسول ) مرتد کی نماز پڑھنے اور دعائے مغفرت کرنے کے والے کے متعلق رد المحتار میں ہے : ” ان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر، لطلبہ تکذیب اللہ تعالٰی فیما اخبربہ ۔ قد علمت ان الصحیح خلافہ ،فالدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلا لا شرعا ولتکذیبہ النصوص القطعیۃ” اھ (ردالمحتار مع درمختار : ج: 2، ص: 288-289، کتاب : الصلاۃ، باب : صفۃ الصلاۃ، مطلب :فی الدعاء المحرم ، ومطلب : فی خلف الوعید وحکم الدعاء بالمغفرۃ للکافر ولجمیع المومنین) فتاوٰی رضویہ میں علامہ اخی یوسف کی ذخیرۃ العقبٰی کے حوالے سے ہے: ” لا یغسل ولا یصلی عیلہ ولایکفن” اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج: 14، ص: 203 ) فتاوی رضویہ میں فتاوی عالم گیری کے حوالے سے ہے: “اور کافر کے لیے دعائے مغفرت وفاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قرآن عظیم ہے “اھ (الفتاوٰی الرضویۃ :ج: 21، ص: 228) بہار شریعت میں ہے : “جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یاکسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور، یاکسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی (جنتی) کہے وہ خود کافر ہے ” اھ (بہار شریعت : ج: 1، ص: 185، ایمان وکفر کا بیان ) واللہ تعالٰی اعلم عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام: مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٨ جمادی الاوّل١٤٤٣ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9