صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #237 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مردہ پیدا ہوے بچے کو کسی کھیت میں دفن کرنا کیسا ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,108

سوال (Question):

مردہ پیدا ہوے بچے کو کسی کھیت میں دفن کرنا کیسا ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مردہ پیدا ہوے بچے کو کسی کھیت میں دفن کرنا کیسا ہے

سوال :۔

یوپی کے کچھ علاقوں میںایسا دیکھا گیا ہے اگر کسی کے وہاں مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کو قبرستان میں دفن کرنا بہت معیوب سمجھتے ہیں اور کھیت وغیرہ میں دفن کردیتے ہیںکیا ایسا کرنا درست ہے ؟ بینوا توجروا۔


جواب :۔

مسلمان کا وہ بچہ جو مردہ پیدا ہوا اسے بھی مسلمانوں ہی کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم ہے ۔ قبرستان میں دفن کرنے کومعیوب سمجھنا جہالت ہے ۔ سیدنا اما م احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ العزیز سے استفتاء ہوا کہ اکثر دیکھا گیا ہے مرا ہوا بچہ کسی کے پیدا ہوتا ہے اس کو ہانڈی میں رکھ کر گورستان میں علٰحدہ دفن کرتے ہیں اور کہتے ہیں پکا مسان ہے اس سے اہل ہنود کی طرح بچتے ہیں ،یہ کیونکر ہے ؟

جواب ارشاد ہوا ’’ یہ شیطانی خیال ہیں ،اسے مسلمانوں کے گورستان یعنی قبرستان میں دفن کریں اورجاہلانہ رسموں اور باطل خیالات سے بچیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

مفتی محمود اختر القادری ممبئ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh