صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #676 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مرد و عورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,803

سوال (Question):

مرد و عورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مردوعورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر جھولا راستے پر نہ ہو بلکہ گھر میں ہو تو مردوں کے لیے کوئی حرج نہیں اور اگر وہاں کوئی نامحرم (اجنبی مرد) نہ ہو تو عورتوں کے لیے بھی جائز ہے بلکہ بعض امراض میں جھولا جھولنا مفید ہوتا ہے ۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : “مجھے اپنے نکاح کی کوئی خبر نہ تھی, میں اپنے مکان میں جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں مجھ کو اٹھا کر لے گئیں “. (سنن ابو داؤد کتاب الایمان حدیث نمبر 4937جلد 4 صفحہ 370 مُلَخَّصاًداراحیاء التراث العربی ) اسی طرح سیدی اعلحضرت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ سے سوال ہوا کہ تفریحا جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ : “شارعِ عام پر نہ ہو, مکان میں ہو کچھ حرج نہیں, یہ تو بدن کی ریاضت ہے , بعض امراض میں اَطِبَّا (یعنی ڈاکٹر ) مفید بتاتے ہیں “۔ (ملفوظات اعلحضرت حصہ چہارم صفحہ 459 مکتبۃ المدینہ کراچی ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ : ابو اسید عبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh