Fatwa #1999
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,347
سوال (Question):
مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مرغی مرغا ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو
سوال: مرغی ذبح کرتے ہوئے پوری گردن کٹ جائے تو کیا مرغی حلال رہے گی یا حرام ہو جائے گی؟ سائل : عمیر احمد، مسجد وخانقاہ امدادیہ امداد نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر ذبح کے دوران مرغی کا پورا گلا کٹ گیا یعنی الگ ہوگیا تو ایسی مرغی کا گوشت حلال ہے، البتہ جان بوجھ کر اتنا زیادہ ذبح کرنا مکروہ ہے۔ فتاویٰ ھندیہ میں موجود ہے.. (کتاب الذبائح، 287/5) ویستحب الاکتفاء بقطع الاوداج ولا یباین الراس ولو فعل یکرہ۔ کسی بھی حلال جانور اور پرندے کو ذبح کرتے وقت قصداً گردن الگ کردینا مکروہ عمل ہے، کیونکہ اس میں جانور کو ضرورت سے زیادہ تکلیف دینا پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر ایک مخلوق کے ساتھ احسان و خوبی کا برتاؤ کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اگر کسی (مجرم) کو قتل کرو تو مناسب صورت سے قتل کرو (کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو) اور جانور کو ذبح کرو تو مناسب صورت سے ذبح کرو (کہ زیادہ تکلیف نہ ہوجائے) اور چھری تیز رکھو ۔ اس طرح جانور کے لئے سہولت کی کوشش کرو (یعنی چھری پھیرنے سے پہلے اور چھری پھیرنے کے بعد ایسا کام نہ کرو جس سے جانور کو تکلیف پہنچے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ. جانور اور پرندہ اس صورت میں بھی حلال ہوجاتا ہے اور اس کا کھانا بلاکراہت درست ہے، اس لیے کہ ذبح میں جن رگوں کا کاٹنا ضروری ہے وہ اس صورت میں بھی کٹ جاتی ہیں، اور اگر غلطی سے گردن الگ ہوجائے تو مکروہ بھی نہیں۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ۔ (صحیح المسلم، رقم : ١٩٥٥) (وَ) كُرِهَ كُلُّ تَعْذِيبٍ بِلَا فَائِدَةٍ مِثْلُ (قَطْعِ الرَّأْسِ وَالسَّلْخِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ) أَيْ تَسْكُنَ عَنْ الِاضْطِرَابِ۔ (شامی : ٦/٢٩٦) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9