صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2649 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مرنے کے بعد روحیں کہاں رہتی ہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,761

سوال (Question):

مرنے کے بعد روحیں کہاں رہتی ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

 مرنے کے بعد روحیں کہاں رہتی ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے بارے میں مرنے کے بعد روحیں کہاں رہتی ہیں تفصیلی مدلل جواب عطا فرمائے المستفتی جنید احمد آسام

الجواب ھو الھادی الی الصواب

روحوں کے بارے میں عمومی خیالات عام طور پر اس طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں مکان میں رُوح کا ڈیرا ہے ،وہ مار دیتی ہے،فلاں جگہ ایک آدمی قتل ہوا تھا وہاں اس کی روح بھٹک رہی ہے،قتل ہونے والوں کی روحیں دنیا میں بھٹکتی رہتی ہیں،اس حویلی میں کافر روحوں کا بسیرا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بے سَروپا تَوَہُّمات ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلّق نہیں، شرح الصدور میں ہے: وفات کے بعد مؤمنین کی روحیں ”رِمیائیل“ نامی فرشتے کےحوالےکی جاتی ہیں، وہ مؤمنین کی روحوں کے خازِن ہیں۔ جبکہ کفّار کی روحوں پر مقرر فرشتے کا نام”دَومہ“ہے۔(شرح الصدور، ص237) روحوں کے مقامات کافروں کی روحیں مخصوص جگہوں پر قید ہوتی ہیں جبکہ مسلمانوں کی روحوں کے مختلف مقامات بھی مُقَرّر ہیں اور انہیں اورمقامات پرجانے کی اجازت بھی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُناامام مالک علیہ رحمۃ اللہ الخالِق فرماتے ہیں:مؤمنوں کی اَرواح آزاد ہوتی ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔نبیّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مؤمنین کی اَرواح سبز پرندوں میں ہوتی ہیں، جنّت میں جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں۔ عرض کی گئی:اور کافروں کی روحیں؟ ارشاد فرمایا: سِجّین میں قید ہوتی ہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے: مرنے کے بعد مسلمان کی روح حسبِ مرتبہ مختلف مقاموں میں رہتی ہے، بعض کی قبر پر ، بعض کی چاہِ زمزم شریف(یعنی زم زم شریف کے کنویں ) میں، بعض کی آسمان و زمین کے درمیان، بعض کی پہلے، دوسرے، ساتویں آسمان تک اور بعض کی آسمانوں سے بھی بلند اور بعض کی روحیں زیرِ عرش قِنْدیلوں میں اور بعض کی اعلیٰ عِلّیِّین میں مگر کہیں ہوں اپنے جسم سے اُن کو تعلّق بدستور رہتا ہے۔ جو کوئی قبر پر آئے اُسے دیکھتے، پہچانتے، اُس کی بات سنتے ہیں بلکہ روح کا دیکھنا قُربِ قبر ہی سے مخصوص نہیں، اِس کی مثال حدیث میں یہ فرمائی ہے کہ ایک طائر (پرندہ) پہلے قَفَس (پنجرے) میں بند تھا اور اب آزاد کر دیا گیا۔(بہارِ شریعت،ج1،ص101) خبیث روحیں کافروں کی خبیث روحوں کے بھی مقام مقرّر ہیں وہ آزاد نہیں گھومتیں بلکہ بعض کی اُن کے مَرگھٹ (مردے جلانے کی جگہ) یا قبر پر رہتی ہیں، بعض کی چاہِ برہُوت میں کہ یمن میں ایک نالہ(یعنی وادی) ہے ، بعض کی پہلی، دوسری، ساتویں زمین تک، بعض کی اُس کے بھی نیچے سجّین میں اور وہ کہیں بھی ہو، جو اُس کی قبر یا مرگھٹ پر گزرے اُسے دیکھتے، پہچانتے، بات سُنتے ہیں، مگر کہیں جانے آنے کا اختِیار نہیں، کہ قید ہیں۔یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسُخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔(بہارِ شریعت،ج1،ص103) فتاوی رضویہ میں ہے: امام اجل عبداﷲبن مبارک وابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم حضرت عبدا ﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے موقوفاً اور امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرک اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعاً راوی۔ وھذا لفظ ابن المبارک قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن، وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی السجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض یتفسح فیھا (اور یہ ابن مبارک کے الفاظ ہیں، ت) بیشک دنیا کافر کی بہشت اور مسلمان کا قید خانہ ہے، جب مسلمان کی جان نکلتی ہے توا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص زندان میں تھا اب آزاد کردیا گیا تو زمین میں گشت کرنے اور بافراغت چلنے پھرنے لگا فاذا مات المؤمنین یخلی بہ بسرح حیث شاء جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔ امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت فرماتے ہیں: انسان کبھی خاک نہیں ہوتا بدن خاک ہوجاتا ہے، اور وہ بھی کُل نہیں ، کچھ اجزائے اصلیہ دقیقہ جن کو عجب الذنب کہتے ہیں وہ نہ جلتے ہیں نہ گلتے ہیں ہمیشہ باقی رہتے ہیں ، انھیں پر روز قیامت ترکیب جسم ہوگی، عذاب وثواب روح وجسم دونوں کے لیے ہے۔ جو فقط روح کے لیے مانتے ہیں گمراہ ہیں، روح بھی باقی اور جسم کے اجزائے اصلی بھی باقی، اور جو خاک ہوگئے وہ بھی فنائے مطلق نہ ہوئے، بلکہ تفرق اتصال ہوا اور تغیر ہیأت۔ پھر استحالہ کیا ہے۔ حدیث میں روح وجسم دونوں کے معذب ہونے کی یہ مثال ارشاد فرمائی کہ ایک باغ ہے اس کے پھل کھانے کی ممانعت ہے۔ ایک لنجھا ہے کہ پاؤں نہیں رکھتا اور آنکھیں ہیں وہ اس باغ کے باہر پڑا ہوا ہے،پھلوں کو دیکھتا ہے مگر ان تک جا نہیں سکتا، اتنے میں ایک اندھا آیا اس لنجھے نے اس سے کہا: تو مجھے اپنی گردن پر بٹھا کر لے چل، میں تجھے رستہ بتاؤں گا، اس باغ کا میوہ ہم تم دونوں کھائیں ان چیزوں اور آوازوں کو دیکھتے سنتے ہیں اور قیامت تك جس کے گلنے خاك میں ملنے کے بعد بھی دیکھیں سنیں گے، یونہی زائروں قبروں کے سامنے گزرنے والوں اور ان کے کلام کو۔ طرفہ یہ کہ مولوی اسحاق صاحب نے بھی جواب وسوال ١٩ میں تسلیم کیا مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں۔ حضرت! جن کانوں سے سلام سنتے ہیں انہی سے کلام ۔ یہ تو ہماری طرف سے کلام تھا، اب جانب منکرین نظر کیجئے ان کا انکار بھی قطعا عام ہے، صرف آلاتِ جسمانیہ سے خاص نہیں، کاش وہ ایمان لے آئیں کہ اموات اصوات کا ادراك تام کرتے ہیں مگر نہ گوشِ بدن فتاوی رضویہ 9 جلد صفح 874 واللہ اعلم بالصواب کتبہ : علامہ  مفتی دانش حنفی ہلدوانی نینیتال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh