صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1820 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,656

سوال (Question):

مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مزاروں پر جاکر اپنی حاجتوں کی تکمیل کیلئے دعاء مانگنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگ جو جاتے ہیں مزاروں میں اولاد کے لیے دعا کرتے کہ میرے اولاد ہو جائے تو کیا ایسا دعا کرنا کیسا ہے مزاروں پر جاکے اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دینگے تو مہربانی ہوگی ســـائل: محمــد ارباز عـالم نـوری بہار ضلـع کشن گنج انڈیا الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں مزاروں پر جاکر اللہ عزوجل کے اولیاء کو مخاطب کرکے اولاد کے لئے دعاء کرنا، اپنی حاجت بیان کرنا اوران سے مددمانگناجائزہے۔اللہ عزوجل کے نیک بندوں سے مددمانگنے کے جوازپرقرآن واحادیث شاہد ہیں ۔اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے:﴿ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴾ تر جمہ کنز الایمان ،یعنی اے مسلمانو! تمہار ا دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتےہیں، اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ۔ (پارہ ،٦ص،٢٢٦,سورۃ المائدۃ،آیت 55) امام اہلسنت اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن اس مضمون کی سترہ احادیث نقل کرنے کے بعدتحریرفرماتے ہیں، انصاف کی آنکھیں کہاں ہیں ؟ ذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے نیک امتیوں سے استعانت کرنے ان سے حاجتیں مانگنے، ان سے خیر واحسان کرنے کاحکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کریں گے، ان سے مانگو تو رزق پاؤ گے،مرادیں پاؤ گے، ان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔یارب! مگر استعانت اور کس چیز کانام ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگی، پھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیک ورحم دل ہوگا کہ ان سے استعانت شرک ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیاجائے گا، الحمدللہ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوا۔“ (فتاوی رضویہ،جلد٢١،صفحہ٣١٧،رضافاؤنڈیشن،لاھور) (وھکذا فتاوی رضویہ رضا فاؤنڈیشن لاھور ج،٢١ص،٣٠٣) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــہ:حضرت علامہ مولانا محمد منظـــورا لقادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh