صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1181 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,269

سوال (Question):

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال : مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اور مسافر فجر، مغرب، جمعہ میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 99 میں ہے اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 144 پر ہے ” لوجوبھا ای الجمعۃ شرائط فی المصلی ھی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ کذا فی الکافی ” ١ھ. اور تنویر الابصار میں ہے ” شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر ” ١ھ. (ج٢ س ١٥٣) اور مسافر نماز فجر، مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کرسکتا ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر، غلام. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ١٠٠) اور درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 155 پر ہے ” یصح للامامۃ فیھا من صلح لغیرھا فجازت لمسافر وعبد ومریض ” واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــہ : محمد اویس القادری امجدی  الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد ١ صفحہ 225

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh