صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1363 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسافر کے احکام / سو کلو میٹر کا سفر کرکے ملازمت کی جگہ قیام کیا تو کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,423

سوال (Question):

مسافر کے احکام / سو کلو میٹر کا سفر کرکے ملازمت کی جگہ قیام کیا تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسافر کے احکام / سو کلو میٹر کا سفر کرکے ملازمت کی جگہ قیام کیا تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں: (١)زید اپنے گھر سے تین کلو میٹر دور ایک مدرسہ میں ملازم ہے وہ سو کلومیٹر سفر کرکے واپس اپنے مدرسے میں آیا ، معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کب تک مسافر رہے گا یعنی مدرسہ پہونچتے ہی مقیم ہوگیا، یا جب تک گھر نہ جائے مسافر ہی رہےگا ؟ (٢)اور اگر زید کا گزر ایسی سڑک ہو جو اس کے گھر کے بغل سے ہوکر گزرتی ہے اور واپسی میں سواری اس کے گھر کے پاس سڑک پر روکی مگر زید سواری سے نہ اترا تو کیا سواری کا آبادی کے پاس رکنا یا گزرنا سفر کو ختم کردےگا ؟ سائل ۔اکبر علی قادری سلطان پور یوپی الجوابــــــــــــــــــــــــــ (١): جب تک زید اس آبادی میں نہ داخل ہو جس میں اس کا گھر یعنی وطنِ اصلی ہے مسافر ہی رہے گا۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “قَالَ مُحَمَّدٌ- رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى- يَقْصُرُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ مِصْرِهِ، وَيُخَلِّفُ دُورَ الْمِصْرِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَفِي الْغِيَاثِيَّةِ هُوَ الْمُخْتَارُ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة الصَّحِيحُ مَا ذُكِرَ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ مُجَاوَزَةُ عُمْرَانِ الْمِصْرِ لَا غَيْرُ إلَّا إذَا كَانَ ثَمَّةَ قَرْيَةٌ أَوْ قُرًى مُتَّصِلَةٌ بِرَبَضِ الْمِصْرِ فَحِينَئِذٍ تُعْتَبَرُ مُجَاوَزَةُ الْقُرَى بِخِلَافِ الْقَرْيَةِ الَّتِي تَكُونُ مُتَّصِلَةً بِفِنَاءِ الْمِصْرِ فَإِنَّهُ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ وَإِنْ لَمْ يُجَاوِزْ تِلْكَ الْقَرْيَةَ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. *وکذا إذَا عَادَ مِنْ سَفَرِهِ إلَى مِصْرِهِ لَمْ يُتِمَّ حَتَّى يَدْخُلَ الْعُمْرَانَ۔” (فتاوی عالم گیری ج١ کتاب الصلاة، الباب الخامس عشر فی صلاة المسافر) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢): دورانِ سفر اگر آدمی اپنی آبادی سے قریب کی سڑک سے گزرے تو اگر اس سڑک کا کچھ حصہ اس آبادی کی حدود میں ہے تو مسافر نہیں رہ جائے گا ورنہ رہے گا ۔فتاوی رضویہ میں اسی طرح کا ایک سوال ہے جو درج ذیل ہے: “آج قصد تلہر اس وقت دس بجے کی گاڑی سے ہے، تلہر تک قصر نہیں، تلہر سے قصد رامپور کا ہے۔ تلھر سے رام پور تک قصر ہے، لیکن درمیا ن میں بریلی پڑے گی، اترنا نہیں ہوگا۔ اِس صورت میں قصر کا کیا حکم ہے ؟۔تلہر میں بھی قصر پڑھا جائے یا نہیں؟ اوراگر تلہر میں قصد رامپور کا فسخ ہوجائے توقصر کو قصر کیا جائے یا نہیں ؟ بینوا توجروا” (فتاوی رضویہ ج٣ص ٦٦٩) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اس سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: “یہاں سے تلہر تک اور تلہر کے قیام تک قصر نہ کریں۔جب تلہر سے بخطِّ مستقیم رامپور کا ارادہ ہو تو راہ میں بھی اور رامپور میں بھی اور بریلی تک واپس آنے میں بھی قصر کریں، رامپور جانے میں اگر چہ بریلی کے اسٹیشن پر گزرہوگا مگر وہ بریلی میں گزر نہیں، کہ قصر کا قصر کردیں اس لئے کہ یہاں اسٹیشن خارج شہر ہے۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص٦٦٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٨/رجب المرجب ١۴۴٣ھ/١٠/فروری ٢٠٢٢ء ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh