Fatwa #82
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مستحق زکاة مقروض کا قرض معاف کردینے سے زکاة ادا ہوگی یا نہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,048
سوال (Question):
مستحق زکاة مقروض کا قرض معاف کردینے سے زکاة ادا ہوگی یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مستحق زکاة مقروض کا قرض معاف کردینے سے زکاة ادا ہوگی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کو قرض دیا تھا بکر قرض کا اعتراف کرتے ہوئے قرض واپس کرنے کو کہتا ہے ۔ لیکن وہ اس وقت محتاج مستحق زکاة ہے تو اگر زید زکاة کی نیت سے بکر کا قرض معاف کردے تو کیا قرض کی معاف کی ہوئی پوری رقم زکاة میں شمار ہوگی ۔ والسلام۔ المستفتی اعجاز القمر علیمی کرلا۔ Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti الجواب: قرض معاف کردینے سے زکاة ادا ہوگی صورت مسئولہ میں زید اگر اپنے مقروض محتاج بکر کا قرض بہ نیت زکاة معاف کردے تو جتنا قرض بکر کے ذمہ ہے صرف اتنے کی زکاة ساقط ہوگی ۔ مان لیجیے زید کا بکر پر چالیس ہزار قرض تھا اور اس نے سب رقم بہ نیت زکاة معاف کردی تو اب زید پر جو اس قرض کی ایک ہزار زکاة لازم تھی وہ ساقط ہوجائے گی ۔ لیکن اگر زید یہ چاہے کہ معاف کردہ مکمل چالیس ہزار روپیہ زکاة کے طور پر ادا ہو تاکہ اس کے پاس جو اور زکاة کی رقم ہے اس کی زکاة بھی ادا ہوجائےتو اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنا ہوگا کہ اپنے پاس سے چالیس ہزار بہ نیت زکاة بکر کو دے اور جب وہ اس پر قبضہ کرلے تو اپنے قرض میں واپس لے لے اور اگر وہ نہ دے تواس صورت میں شرعا اس کو اپنا قرض چھیننے کی بھی اجازت ہے ۔ علامہ محقق علاو الدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “وَاعْلَمْ أَنَّ أَدَاءَ الدَّيْنِ عَنْ الدَّيْنِ وَالْعَيْنِ عَنْ الْعَيْنِ، وَعَنْ الدَّيْنِ يَجُوزُ وَأَدَاءُ الدَّيْنِ عَنْ الْعَيْنِ، وَعَنْ دَيْنٍ سَيُقْبَضُ “لَا يَجُوزُ. وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ، وَلَوْ امْتَنَعَ الْمَدْيُونُ مَدَّ يَدَهُ وَأَخَذَهَا لِكَوْنِهِ ظَفِرَ بِجِنْسِ حَقِّهِ، فَإِنْ مَانَعَهُ رَفَعَهُ لِلْقَاضِي (درمختارج٣ص ١٩٠، ١٩١) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” فقیر پر اُس کا قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی اور جُز معاف کیا تو اس جز کی ساقط ہوگئی ۔ اور اگر اس صورت میں یہ نیّت کی کہ پورا زکاۃ میں ہو جائے تو نہ ہوگی”(بہار شریعت حصہ ۵ص٨٨٩) اور تحریر فرماتے ہیں: “فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے، اگر وہ دینے سے انکار کرے تو ہاتھ پکڑ کرچھین سکتا ہے اور یوں بھی نہ ملے تو قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرے کہ اُس کے پاس ہے اور میرا نہیں دیتا۔”(بہار شریعت حصہ ۵ ص٨٩٠) ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٨/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti
پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم / Percentage پر چندہ کرنا
قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9