Fatwa #1818
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مسجد میں عورتوں کی تعلیم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,339
سوال (Question):
مسجد میں عورتوں کی تعلیم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسجد میں عورتوں کی تعلیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ زید ایک مسجد کا صدر ہے کچھ خواتین نے اس سے فرمائش کی وہ مسجد میں انہیں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ دے حالانکہ زید نے پہلے ہی مسجد کے باہر تعلیم و تعلم کے لیے جگہ دی ہے تو اب عورتوں کا مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور زید مسجد میں تعلیم و تعلّم کے لیے اجازت دے سکتا ہے نہیں؟ العارض محمد مہتاب صدیقی الجوابــــــــــــــــــــ جب کہ مسجد کے صدر نے مسجد سے ہٹ کر تعلیم و تعلم کے لیے عورتوں کو جگہ دے دی ہے تو اب عورتوں کا خاص مسجد میں تعلیم و تعلم کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا نا مناسب اور مقصودِ تعلیم میں خلل انداز ہے، اس لیے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے مہینہ میں کچھ دن (یعنی حیض کے دن) ایسے ہوتے ہیں جن میں اس کا مسجد میں جانا ناجائز ہے۔اب کبھی پڑھانے والی کی ناپاکی کے دن ہوں گے اور کبھی پڑھنے والیوں کی ناپاکی کے دن ہوں گے تو تعلیمی سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا۔ نیز ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بعض طالبات مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایام حیض میں بھی مسجد میں آئیں جائیں۔ علاوہ ازیں معلمات کا اگر کوئی شیر خوار یا چھوٹا بچہ ہے تو اس سے مسجد آلودہ ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ لہذا مسجد میں عورتوں کے لیے تعلیم وتعلم میں دقتیں ہیں۔ ہاں! اگر مسجد میں تعلیم و تعلم ہر طرح کے محظورِ شرعی سے محفوظ ہو تو عورتوں کو بھی مسجد میں دینی تعلیم و تعلم سے منع نہیں کیا جاسکتا۔مثلا: (١) دین کی تعلیم ہو (٢)مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو یعنی نماز کے اوقات اور مردوں کے آنے کے اوقات میں تعلیم نہ ہو(٣) حجاب شرعی کا التزام رہے۔(۴) ناپاکی کے ایام نہ ہوں۔(۵) معلمات و متعلمات سنی صحیح العقیدہ ہوں۔(٦) مسجد میں شور و غل نہ ہو(٧) معاوضہ لے کر تعلیم نہ ہو۔(٨) ناسمجھ بچے اور بچیاں نہ ہوں۔غرض ہر طرح محظورِ شرعی سے ہاک ہو۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: *”مسجد میں تعلیم بشرائط جائز ہے:(۱) تعلیم دین ہو۔(۲) معلم سنی صحیح العقیدہ ہو، نہ وہابی وغیرہ بددین کہ وہ تعلیم کفر و ضلال کرےگا۔(۳) معلم بلا اُجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔(۴) ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں۔(۵) جماعت پر جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت ہے۔(۶) غل شور سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔(۷) معلم خواہ طالب علم کسی کے بیٹھے سے قطعِ صف نہ ہو۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٠۵) واضح رہے کہ مذکورہ بالا شرطوں کی پابندی عورتوں سے بعید معلوم ہوتی ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ مسجد میں ان کے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری کرنے سے اجتناب و احتراز کیا جائے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٧/ذو قعدہ ١۴۴٣ھ// ٢٨/جون ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9