Fatwa #1278
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,406
سوال (Question):
مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسجد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ! کیا فرماتے ہیں علمائے ذوی الاحترام ومفتیان ذوی احتشام مسئلہ مندرجہ ذیل کے متعلق کہ! ایک گاؤں میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی جس کی دیواریں کم و بیش ۳یا۴ فٹ ہو گئیں ہیں پھر گاؤں والوں نے جب مسجد جانے کے راستے پر غور کیا تو پتہ چلا کہ مسجد کی مجیئت و ذھاب کا جو راستہ ہے وہ نہایت ہی تنگ ہے جس سے مسجد آنے جانے والوں کو کافی دقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی پڑینگی ۔تو اب گاؤں کے جملہ حضرات مع واقف زمین کے اس مسجد کو (جو محل اول میں بننی تھی )محل ثانی کی طرف(جہاں کہ کشادہ راستہ ہے ) منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔اور ابھی تک اس میں نماز بھی نہیں ہوئی ہے نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی باجماعت ۔۔ آیا اس مسجد کو جو محل اول میں بنائی جانے والی تھی اسے محل ثانی کی طرف منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر منتقل کر سکتے ہیں تو پھر اس پہلی جگہ کا کیا کریں؟ اور اگر نہیں منتقل کر سکتے تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے؟ مستفتیان : جملہ مسلمانان سالارپوروہ نزد مہین پوروہ بازار ضلع بہرائچ شریف یوپی الہند ۔۔۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب مسجد ہونے کے لئے عمارت مسجد کامکمل ہوجانا یا اس میں نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ واقف کا زبان سے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نےاس زمین کو مسجد کیا درمختار میں ہے: “ويزول ملكه عن المسجد والمصلي بالفعل وبقوله جعلته مسجداعند الثاني” (ج: ٦ ص: ٥٤٤ – ٥٤٥ كتاب الوقف) مجدد دین وملت سرکار اعلی حضرت رضي الله تعالي عنه تحریر فرماتے ہیں: “مسجد مذھب راجح پر واقف کے صرف اس کہنے سے کہ میں نے اس زمین کو مسجد کیا بجمیع اجزائہ مسجد ہوجاتی ہے” اھ ملخصا (فتاوی رضویہ مترجم ج: ۸ ص: ٧۰ باب احکام المسجد) صدرالشریعہ علامہ امجد علی تحریر فرماتے ہیں : “مسجد جس کی عمارت نامکمل رہی اگر بنانے والے نے اسے مسجد کردایا یعنی زبان سے کہہ دیا کہ اس زمین کو میں نے مسجد کیا تو وہ مسجد ہوگئی کہ مسجد ہونے کے لئے اس میں نماز ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ کہہ دینے سے بھی مسجد ہوجاتی ہے کہ میں نے اسے مسجد کیا” اھ (فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٣٤ باب المسجد) لہذا صورمستفسرہ میں اگرچہ محل اول میں بننے والی مسجد میں نماز نہیں ہوئی لیکن اگر واقف نے اسے مسجد کردیا تو وہ مسجد ہوگئی اب دوسرے مسلمان تو درکنار اگر واقف بھی اسے محل ثانی میں منتقل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا کہ وہ واقف کی ملک نہ رہی بلکہ خالص اللہ تعالی کی ملک ہوگئی قرآن پاک میں ہے: “وَاَنّ المَسٰجِدَ لِلّٰہِ”(سورة الجن 72 : 18) اور یہ کہ مسجدیں اللہ تعالی ہی کی ہیں (کنزالایمان) فتاوی امجدیہ ج: ٣ ص: ١٤٦ پر ہے: “جب اس مسجد کامسجد ہونا ثابت ہوگیا تو اب اگرچہ بنانے والا چاہے بھی کہ میں اپنی ملک قرار دےدوں تو نہیں کرسکتا” اھ ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ محل اول کی مسجد کی تعمیر مکمل کرکے اسے آباد رکھا جائے اور محل ثانی میں بھی مسجد بناکر اسے آباد رکھاجائے. واللہ تعالی اعلم بالصواب . الجواب صحيح مفتي نظام الدين عليمي صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی یوپی انڈیا. کتبہ:گدائےحضوررئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9