صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1294 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,102

سوال (Question):

مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟

سوال :کیامسجد کی دیوار پر کسی دوکان یا کمپنی کا advertisement یعنی اشتہار لگانے کی بالمعاوضہ اجازت دی جاسکتی ہے؟ سائل: محمد سہیل مہراج گنج یوپی انڈیا. الجواب اللھم اجعل لی النور والصواب دیوار مسجد جزء مسجد ہے اور مسجد بجمیع اجزائہ اللہ تعالی کی ہے کہ ارشاد باری تعالی ہے: “ان المسٰجد للہ”(الجن:١۸) لہذا کسی مسلمان کو ہرگز یہ حق نہیں کہ دیوار مسجد پر کسی دوکان یا کمپنی کے اشتہار لگانے کی اجازت دے چاہے بالمعاوضہ ہو یا بلامعاوضہ بہر صورت ناجائز. البحرالرائق ج:٥ ص: ٤٢١ (دارالكتب العلمية) ، فتاوي قاضی خان ج: ٣ ص:١٦٨ (دارالكتب العلمية) ، الدرالمختار مع ردالمحتار ج:٦ ص:٥٤٨(دارعالم الكتب) میں ہے:- واللفظ من البحر- “لایجوز للقیم ان یجعل شیئا من المسجد مستغلا ولا مسکنا”اھ. یعنی متولی کوجائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو نفع کمانے یابسنے کی جگہ بنائے ۔ ردالمحتار علی الدرالمختار ج:٦ ص:٥٤۸ میں ہے: “والمراد من المستغل ان یوجر منہ شیئ لاجل عمارتہ”اھ. یعنی مستغل سے مراد یہ ہیکہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ پر دیاجائے کہ اس پر خرچ کیا جائے ۔ فتاوی مفتی اعظم ج:٣ ص:١٥۸ میں ہے: “بعد تمام مسجدیت دیوار مسجد کو کسي کام میں نہیں لاسکتے اگرچہ مسجد کے مصالح کےلئے جو اوقاف میں ہوں ان میں”اھ. اورص:١٥٥ پر ہے: “مسجد کی دیوار کو اپنےاستعمال میں لانا حرام ہے”اھ ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب الجواب صحيح : مفتي نظام الدين عليمي صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمده شاہی بستي يوپي الہند کتبہ: گدائے حضوررئيس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh