صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1194 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسجد کی چھت پر جماعت کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,813

سوال (Question):

مسجد کی چھت پر جماعت کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسجد کی چھت پر جماعت کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ ہماری مسجد میں جانب محراب سے تقریبا نصف مسجد تک فرش مسجد سے تقریبا آٹھ نو فٹ بلندی پر سلیپ ڈال دی گئی ہے اسی سلیپ پر زید سو ڈیڑھ سو نمازیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے اور تقریبا تین چار سو مقتدی نیچے فرش پر اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نماز میں کوئی خرابی تو نہیں اگر ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ سوال میں مذکور جس سلیپ پر زید سو ڈیڑھ سو نمازیوں کو لے کر نماز ادا کرتا ہے وہ مسجد کی چھت کے حکم میں ہے اور مسجد کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنے کو فقہاء کرام نے مکروہ بتایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت نہ ہو تو نماز بھی مکروہ ہے. در مختار میں ہے ” کرہ تحریما (الوط فوقہ والبول والتغوط) اسی کے تحت ردالمحتار میں ہے ” ثم رایت القھستانی نقل عن المفید کراھۃ الصعود علی سطح المسجد ١ ھ. ویلزمہ کراھۃ الصلاۃ ایضا فوقہ فلیتامل ” (جلد 2 صفحہ 428) ایسا ہی فتاویٰ امجدیہ جلد 1 صفحہ 249 میں بھی ہے. لہذا اس کراہت سے بچنے کی یہ صورت اختیار کی جائے کہ نماز کی ابتدا مسجد کے نچلے حصے سے کی جائے اور جب آدمی زیادہ ہو جائیں اور نیچے جگہ نہ بچے تو بقیہ لوگ اس سلیپ پر چلے جائیں اس صورت میں نماز بلا کراہت جائز ہو گی کیونکہ اوپر چڑھنا بوجہ ضرورت ہوا اور یہ جائز ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے ” الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحر یکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الا اذا ضاق المسجد فحینئذ لا یکرہ الصعود للضرورۃ ” (ج 5 صفحہ 32) ایسا ہی ہے فتاویٰ رضویہ جلد 3 صفحہ 575 میں بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی محمد شمیم المصباحی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh