صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #210 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

جھوٹی قسم کھانے (یمینِ غموس) کا کفارہ اور گناہ

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 12,042

سوال (Question):

اگر کسی نے جان بوجھ کر کسی پچھلے واقعے پر جھوٹی قسم کھائی تو کیا کفارہ ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی ماضی کے واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا یمین غموس کہلاتا ہے جو بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کوئی مالی کفارہ نہیں اس پر سچے دل سے توبہ اور استغفار کرنا فرض ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh