صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1216 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مسجد کے نام پر زمین دیا اور اس زمین کو غیر مسلم سے بیچ دیا تو کیا اس پیسے کو مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,251

سوال (Question):

مسجد کے نام پر زمین دیا اور اس زمین کو غیر مسلم سے بیچ دیا تو کیا اس پیسے کو مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مسجد کے نام پر زمین دیا اور اس زمین کو غیر مسلم سے بیچ دیا تو کیا اس پیسے کو مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

سوال : علماءکرام وہ مفتیان عظام مسئلے ذیل پے نظرکرم فرمائیں اگر کوئی شخص مسجد کے نام پر زمین دیا اور اس زمین کو غیر مسلم سے بیچدیا تو کیا اس پیسے کو مسجد میں لگا سکتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اولا آپ یہ اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ اگر شخص مذکور نے زمین صرف نماز پڑھنے کے لئے عارضی طور پر دی وقف نہیں کی تو پھر صاحب زمین کو اختیار ہے کہ وہ جیسے چاہے بیچ سکتا ہے نیز اسکا پیسہ مسجد میں لگا سکتا ہے۔ (کتب فقہ و فتاوی) لہذا ایسی صورت میں کافر کو نہ دیکر مسلمان کے ہاتھوں وہ زمین بیچے زیادہ بہتر ہوگا لیکن اگر صاحب زمین نے وقف کے طور پر وہ زمین مسجد کے لئے دی تو پھر وہ تا قیامت مسجد ہی مانی جائے گی جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ اپنی مشہور و معروف کتاب بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں : کہ مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے توڑ پھوڑ کر اسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اسے مکان بنالے یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے ۔ (بہار شریعت جلد ٢ صفحہ نمبر ٥٦١ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور آگے تحریر فرماتے ہیں کہ وقف کو نہ باطل کرسکتاہے نہ اس میں میراث جاری ہوگی نہ اسکی بیع ہوسکتی ہے نہ ہبہ ہوسکتا ہے ۔ ( بہار شریعت جلد ٢ حصہ ١٠ ص ٥٢٣ وقف کا بیان ) اور اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ملفوظات اعلی حضرت میں ہے ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے متصل ایک کمہار (یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کمہار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بیع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟ ارشاد حرام ہے (الفتاوی الھندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی العشر فی المسجد،جلد ٢ صفحہ ٤٥٧) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہے لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿٤١﴾ دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔ (پارہ ٠٦ سورۃ المائدۃ آیت نمبر ٤١)(ملفوظات اعلی حضرت صفحہ نمبر ٣٤٨ مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا ان تمام دلائل سے صاف ظاہر ہے کہ نہ وقف کی زمین یا لوگوں کے چندے سے مسجد کے لئے خریدی گئی زمین دونوں صورت میں اس زمین کو نا خریدا جا سکتا ہے اور نہ بیع کی جا سکتی ہے لیکن اگر وقف نہیں تو صاحب زمین کو اختیار ہے جیسے چاہے بیچ سکتا ہے اول مسلمان کو بیچنا افضل ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری صاحب مد ظلہ العالی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh