Fatwa #2742
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
مسلمان اپنا خون کسی دوسرے کو دے سکتا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,096
سوال (Question):
مسلمان اپنا خون کسی دوسرے کو دے سکتا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسلمان اپنا خون کسی دوسرے کو دے سکتا ہے ؟
مسلمان اپنا خون دوسرے کو دے سکتا ہے یا نہیں یہ سوال ہے۔ الجواب : ایسے ہی خون نہیں دیا جاتا بلکہ جب خون کی کمی کی وجہ سے کسی کی جان جا سکتی ہو اور ڈاکٹر یہ بتائے کہ اگر اس کو اتنا خون چڑھا دیا جائے تو اس کی جان بچ جائے گی تو ایسی صورت میں شریعت اسلامیہ یہ اجازت دیتی ہے کہ صالح خون اس کے بدن میں ضرورت کی مقدار چڑھا دیا جائے تاکہ اس کی جان بچ جائے ۔اب وہ خون کس کا ہے ؟یاکس کا ہو اس میں کوئی قید نہیں ہے۔ مسلمان کی جان بچانے کے لیے مسلمان خون دے سکتا ہے اور غیر مسلم بھی خون دے سکتا ہے۔ اور غیر مسلم کی جان بچانے کے لیے غیر مسلم بھی خون دے سکتا ہے اور مسلم بھی خون دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ شوہر کی جان بچانے کے لیے بیوی خون دے سکتی ہے اور بیوی کی جان بچانے کے لیے شوہر بھی خون دے سکتا ہے۔ یہ ساری صورتیں جائزودرست ہیں ۔ اس کا تعلق علاج سے ہے جن جن لوگوں کا علاج کرنا جائز ہے ان سب لوگوں کو خون دینا بھی ان کی جان بچانے کے لیے جائز و درست ہے ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔ ( ماخوذ از بزم سوالات )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9