حجرِ اسود کو چومنے کے لیے دھکم پیل کرنا
سوال (Question):
طواف کے دوران حجر اسود کو چومنے کے لیے لوگوں کو دھکے دینا کیسا ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حجرِ اسود کو چومنا سنت ہے، لیکن مسلمانوں کو تکلیف دینا، دھکے مارنا یا عورتوں کے ہجوم میں گھسنا حرام ہے۔ ایک سنت پر عمل کرنے کے لیے حرام کام کا ارتکاب کرنا جہالت ہے۔ ہجوم ہو تو دور سے ہاتھ کا اشارہ کر کے بوسہ دے لینا کافی اور مسنون ہے۔ واللہ اعلم۔