صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #74 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مصنوعی بے ہوشی یابے حسی مفسدروزہ ہے یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,147

سوال (Question):

مصنوعی بے ہوشی یابے حسی مفسدروزہ ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مصنوعی بے ہوشی یابے حسی مفسدروزہ ہے یا نہیں ؟

  مصنوعی بے ہوشی یابے حسی مفسدروزہ ہے یا نہیں ؟ اوراگر بے ہوشی دو تین دنوں تک رہ جائے تو اس صورت میں اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ جواب : اس امر پرتمام علماے کرام کااتفاق ہے کہ بے ہو شی بذات خود مفسد صوم نہیں ہے ۔ خواہ وہ بے ہوشی مصنوعی ہویاغیر مصنو عی ۔ ہاں!مصنوعی بے ہوشی کے اسباب وذرائع کے لحاظ سے اس کے احکام مختلف ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً انجکشن لگانے سے مصنوعی بے ہوشی طاری ہوئی تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔ اس لیے کہ اس صورت میں کوئی شے منفذ اصلی سے جوفِ معدہ میں نہیں جاتی ہے جیسا کہ سوال نمبر دو کے جواب میں اس کی وضاحت ہے ۔ اور اگرسلینڈر کے ذریعہ ناک میں گیس سونگھانے یا منہ کے راستے گیس پہنچانے سے مصنوعی بے ہوشی طاری ہوئی تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا ۔ کیوں کہ اس صورت میں بے ہوش کرنے والی دوا ناک یا منہ کے راستے حلق یا دماغ تک ضرور پہنچتی ہے ۔ اب اگر یہ بے ہوشی دراز ہو تو انجکشن کے ذریعہ بے ہوش کرنے کی صورت میں پہلا روزہ صحیح ہوگا اور باقی کی قضا لازم ہوگی ۔ اور سلینڈر کے ذریعہ حلق یا دماغ تک گیس پہنچانے کی صورت میں بے ہوشی کے تمام ایام کی قضا لازم ہوگی۔ قضا کے سلسلے میں دلائل یہ ہیں: ٭البحرالرائق میں ہے : وَلَمْ یَجْعَلُوا الْعَقْلَ وَالْإِفَاقَۃَ شَرْطَیْنِ لِلصِّحَّۃِ ؛ لِأَنَّ مَنْ نَوَی الصَّوْمَ مِنْ اللَّیْلِ ثُمَّ جُنَّ فِی النَّہَارِ أَوْ أُغْمِیَ عَلَیْہِ یَصِحُّ صَوْمُہُ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ،وَإِنَّمَا لَمْ یَصِحَّ فِی الْیَوْمِ الثَّانِی لِعَدَمِ النِّیَّۃِ؛لِأَنَّہَا مِنْ الْمَجْنُونِ وَالْمُغْمَی عَلَیْہِ لَا تُتَصَوَّرُ، لَا لِعَدَمِ أَہْلِیَّۃِ الْأَدَاء ِ(البحرالرائق شرح کنز الدقائق: شروط الصیام ، ج۴، ص۴۴۹، کتاب الصوم، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) ٭مبسوط سرخسی میں ہے : (قَالَ):رَجُلٌ أُغْمِیَ عَلَیْہِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ حِینَ غَرَبَت الشَّمْسُ فَلَمْ یُفِقْ إلَّا بَعْدَ الْغَدِ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَاء ُ الْیَوْمِ الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّہُ لَمَّا غَرَبَت الشَّمْسُ وَہُوَ مُفِیقٌ فَقَدْ صَحَّ مِنْہُ نِیَّۃُ صَوْمِ الْغَدِ وَرُکْنُ الصَّوْمِ ہُوَ الْإِمْسَاکُ ، وَالْإِغْمَاء ُ لَا یُنَافِیہِ فَتَأَدَّی صَوْمُہُ فِی الْیَوْمِ الْأَوَّلِ لِوُجُودِ رُکْنِہِ وَشَرْطِہ، وَعَلَیْہِ قَضَاء ُ الْیَوْمِ الثَّانِی؛لِأَنَّ النِّیَّۃَ فِی الْیَوْمِ الثَّانِی لَمْ تُوجَدْ،وَقَدْ بَیَّنَّا أَنَّ صَوْمَ کُلِّ یَوْمٍ یَسْتَدْعِی نِیَّۃً عَلَی حِدَۃٍ وَبِمُجَرَّدِ الرُّکْنِ بِدُونِ الشَّرْطِ لَا تَتَأَدَّی الْعِبَادَۃُ. (مبسوط السرخسی، المجلد الثانی، الجزء الثالث،کتاب الصوم ، ص65، 66، دار الفکر، بیروت) ٭جوہرہ نیرہ میں ہے : وَلَوْ نَوَی مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُغْمًی عَلَیْہِ ثُمَّ أَفَاقَ بَعْدَ أَیَّامٍ جَازَ صَوْمُہُ لِلْیَوْمِ الْأَوَّلِ الَّذِی نَوَاہُ فِی لَیْلَتِہِ وَلَمْ یَجُزْ فِیمَا بَعْدَ ذٰلِکَ وَلَوْ نَویٰ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ صَوْمَ الْغَدِ لَمْ یَجُز(الجوہرۃ النیرۃ: ج2، ص:197، کتاب الصوم) واللہ تعالیٰ اعلم۔

مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے

قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh