صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1315 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,434

سوال (Question):

مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مقتدی صرف سجدہ سہو کرے اور سلام نہ پھیرے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو کیا حکم ہے مقتدی کی نماز ہوئی یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔ سائل:غلام سرور چتراوی جھارکھنڈ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا اور مقتدی داہنی طرف سلام پھیرے بغیر امام صاحب کے ساتھ سجدۂ سہو کیا تو مقتدی کی نماز ہوگئی لیکن مکروہ تنزیہی ہوئی۔ بہار شریعت میں ہے: اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لیے کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے ۔ (حوالہ ج۱ ح۴ ص۷۱۰ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبـــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh