Fatwa #1330
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مقتدی کے بے محل آمین کہنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
9,026
سوال (Question):
مقتدی کے بے محل آمین کہنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مقتدی کے بے محل آمین کہنے کا حکم
سوال :اگر امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ کے اندر یا آگے آنے والی سورۃ کے بعد زبان سے قصد یا سہوا آمین نکل جائے تو کیا حکم شرعی ہوگا۔ الجوابــــــــــــــــــــــ مقتدی نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کے اندر یا کسی دوسری سورت میں کسی جگہ سہواً یا قصداً آمین کہا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ہاں! اگر نماز سے باہر کسی نے دعا کی اور اس کے جواب میں “آمین” کہا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ رد المحتار میں ہے: “فِي الذَّخِيرَةِ: إذَا أَمَّنَ الْمُصَلِّي لِدُعَاءِ رَجُلٍ لَيْسَ فِي الصَّلَاةِ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ”۔ (رد المحتار ج٢ ص٣٧٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh