صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2426 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

منافقین کو مسجد نبوی شریف سے نکالنے کادلکش منظر

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,597

سوال (Question):

منافقین کو مسجد نبوی شریف سے نکالنے کادلکش منظر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

منافقین کو مسجد نبوی شریف سے نکالنے کادلکش منظر

منافقین نے کسی بھی موقع پررسول اللہ ﷺ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہ کوتکلیف دینے میں کمی نہیںکی ہے اورکتنی بار رسول اللہ ﷺ کوشہید کرنے کامنصوبہ بنایاہے اورکتنی بار رسول اللہ ﷺ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑایاہے اوران کے ساتھ جوہوااورجس طرح ان کومسجد سے گھسیٹ گھسیٹ کر اوران کی داڑھیوںکوکھینچ کھینچ کر نکالایاگیا وہ اسی کے مستحق تھے ۔ اس باب میں ہم منافقین کومسجد شریف سے نکالنے کامنظر بیان کرتے ہیںتاکہ پتہ چلے کہ ان کی بدخلقیوں پر صبر کرناخلق عظیم ہے تومنافقین کوان کے عمل کی سزادینابھی خلق عظیم ہی کاحصہ ہے ۔

منافقین کومسجد نبوی شریف سے نکالنے کی وجہ ؟

امام ابوالقاسم عبدالرحمن السہیلی المتوفی( ۵۸۱ھ) نقل فرماتے ہیں وَکَانَ ہَؤُلَاء ِ الْمُنَافِقُونَ یَحْضُرُونَ الْمَسْجِدَ فَیَسْتَمِعُونَ أَحَادِیثَ الْمُسْلِمِینَ وَیَسْخَرُونَ وَیَسْتَہْزِئُونَ بِدِینِہِمْ۔ ترجمہ:منافقین رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں آتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باتیں سن کر ان کامذاق بناتے اوردین کااستہزاء کرتے تھے۔ (الروض الأنف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن أحمد السہیلی (۴:۲۱۸)

منافقین کو کیسے نکالا؟

حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَال:حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ، قَال:حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ سُفْیَان:أَرَاہُ عِیَاضُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَال:حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ، قَال:حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عِیَاضٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ مَا شَاء َ اللَّہُ، ثُمَّ قَالَ:إِنَّ مِنْکُمْ، أَوْ فِیکُمْ مُنَافِقِینَ، فَمَنْ سَمَّیْتُ فَلْیَقُمْ، فَقَالَ: قُمْ یَا فُلانُ، قُمْ یَا فُلانُ، حَتَّی عَدَّ سِتَّۃً وَثَلاثِینَ، ثُمَّ قَال:إِنَّ مِنْکُمْ، أَوْ فِیکُمْ، فَسَلُوا اللَّہَ الْعَافِیَۃَ، قَال:فَمَرَّ عُمَرُ بِرَجُلٍ مُتَقَنِّعٍ، وَکَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ مَعْرِفَۃٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنُکُمْ؟ فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بُعْدًا لَکُمْ سَائِرُ الْیَوْمِ ۔ ترجمہ:حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیااور جتنااللہ تعالی نے چاہاذکرکیا،پھر فرمایاکہ تم میں سے یاتم میں منافقین ہیں،جس جس کامیں نام لوں وہ یہاں سے اٹھ کر نکل جائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے نام لیناشروع کئے، تو چھتیس لوگوں کے نام لئے ،پھر فرمایاکہ تم لوگ اللہ تعالی سے عافیت کاسوال کرو۔حضرت عمررضی اللہ عنہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنامنہ چھپائے جارہاتھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس کے ساتھ جان پہچان تھی، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے سوال کیاکہ کیاہواتم کو ؟ تو اس نے ساراواقعہ سنایاجو کچھ رسول اللہ ﷺ نے ان کوفرمایاتھاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:دفع دو ر ہوجا،آج کے بعد ادھرنہ آنا ۔ (صفۃ النفاق ونعت المنافقین لأبی نعیم: أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن مہران الأصبہانی :۱۹۰)

ٹانگ سے گھسیٹ کر باہر نکال دیا

فَقَامَ أَبُو أَیّوبَ خَالِدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ کُلَیْبٍ، إلَی عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ، أَحَدُ بَنِی غَنْمِ بْنِ مَالِکِ بْنِ النّجّارکَانَ صَاحِبَ آلِہَتِہِمْ فِی الْجَاہِلِیّۃِ فَأَخَذَ بِرِجْلِہِ فَسَحَبَہُ حَتّی أَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ وَہُوَ یَقُولُ أَتُخْرِجُنِی یَا أَبَا أَیّوبَ مِنْ مِرْبَدِ بَنِی ثَعْلَبَۃ۔ ترجمہ:حضرت ابوایوب اورخالد رضی اللہ عنہماکھڑے ہوئے اورعمر و بن قیس کوٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہر پھینک دیااوروہ کہہ رہاتھاکہ اے ابوایوب !کیاتم مجھ کو بنی ثعلبہ کے اونٹوں کے باڑے سے نکال رہے ہو؟۔ (الروض الأنف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن أحمد السہیلی (۴:۲۱۸) یعنی اس کو ایسی ذلت کے ساتھ مسجد شریف سے گھسیٹ کرنکالاکہ وہ کہنے لگاکہ مجھے آپ ایسے گھسیٹ رہے ہیں جیسے اونٹ کو ذلت کے ساتھ نکالاجاتاہے۔

منافق کوچادر سے پکڑکے گھسیٹااورمنہ پرتھپڑمارا

َ ثُمّ أَقْبَلَ أَبُو أَیّوبَ أَیْضًا إلَی رَافِعِ بْنِ وَدِیعَۃَ، أَحَدُ بَنِی النّجّارِ فَلَبّبَہُ بِرِدَائِہِ ثُمّ نَتَرَہُ نَتْرًا شَدِیدًا، وَلَطَمَ وَجْہَہُ ثُمّ أَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ وَأَبُو أَیّوبَ یَقُولُ لَہُ أُفّ لَک مُنَافِقًا خَبِیثًا: أَدْرَاجَک یَا مُنَافِقُ مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:پھر حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے رافع بن ودیعہ کے گلے میںچادر ڈال کرخوب کھینچااوراس کے منہ پرتھپڑمارااورمسجد سے نکال دیااورساتھ فرمارہے تھے اے خبیث منافق! تجھ پرافسوس ہے نکل جارسول اللہ ﷺ کی مسجد سے ۔ (الروض الأنف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن أحمد السہیلی (۴:۲۱۸)

داڑھی سے کھینچ کرباہر نکال دیا

امام عبدالملک بن ہشام المتوفی ( ۲۱۳ھ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں وَقَامَ عِمَارَۃُ بْنُ حَزْمٍ إلَی زَیْدِ بْنِ عَمْرٍو، وَکَانَ رَجُلًا طَوِیلَ اللِّحْیَۃِ، فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ فَقَادَہُ بِہَا قَوْدًا عَنِیفًا حَتَّی أَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ جَمَعَ عِمَارَۃُ یَدَیْہِ فَلَدَمَہُ بِہِمَا فِی صَدْرِہِ لَدْمَۃً خَرَّ مِنْہَاقَالَ: یَقُولُ: خَدَشْتَنِی یَا عِمَارَۃُ، قَالَ:أَبْعَدَکَ اللَّہُ یَا مُنَافِقُ، فَمَا أَعَدَّ اللَّہُ لَکَ مِنْ الْعَذَابِ أَشَدُّ مِنْ ذَلِکَ، فَلَا تَقْرَبَنَّ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. ترجمہ:حضرت عمار ہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے زید بن عمرو کی طرف اسکی داڑھی لمبی تھی، اس کی داڑھی کوپکڑ لیااور اس کوکھینچتے ہوئے باہر لائے ،پھردونوںہاتھوں کوجمع کرکے اس کے سینہ پر زور سے مکامارا،تووہ نیچے جاگرا،تواس نے کہا کہ اے عمارہ! تم نے مجھ کوبہت تکلیف دی ہے۔ آپ نے فرمایا:خداتجھے دفع کرے، جواللہ تعالی نے تیرے لئے عذاب تیارکیاہے وہ اس سے بھی سخت ہے۔ آج کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے قریب نہ آنا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: عبد الملک بن ہشام بن أیوب الحمیری المعافری، أبو محمد، جمال الدین (۱:۵۲۸) اس سے ثابت ہواکہ صرف اس داڑھی کی تعظیم کی جائے گی جو رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کی وفادارہو، اس کے علاوہ کسی بھی داڑھی کی کوئی عزت نہیں ہے ۔

سرکے بالوں سے پکڑکرگھسیٹااورنکال دیا

امام سلیمان بن موسی الحمیری المتوفی ( ۶۳۴ھ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ نقل فرماتے ہیں قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَقَامَ أَبُو مُحَمَّدٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، کَانَ بَدْرِیًّا، وَأَبُو مُحَمَّدٍ مَسْعُودُ بْنُ أَوْسِ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَصْرَمِ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِکِ بْنِ النَّجَّارِ إلَی قَیْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَہْلٍ، وَکَانَ قَیْسٌ غُلَامًا شَابًّا، وَکَانَ لَا یُعْلَمُ فِی الْمُنَافِقِینَ شَابٌّ غَیْرُہُ، فَجَعَلَ یَدْفَعُ فِی قَفَاہُ حَتَّی أَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ. ترجمہ:حضرت ابومحمد رضی اللہ عنہ جوکہ بدری صحابی ہیںاورایک ابومحمد مسعود رضی اللہ عنہ یہ دونوں کھڑے ہوئے قیس بن عمرو کی طرف، اس کی گدی میں مکے مارمار کرمسجد سے باہرنکال دیااورمنافقین میںیہی جوان تھا۔ (الاکتفاء :سلیمان بن موسی بن سالم بن حسان الکلاعی الحمیری، أبو الربیع (۱:۳۱۱) توپلید ہے امام عبدالملک بن ہشام المتوفی ( ۲۱۳ھ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَلْخُدْرَۃَ بْنِ الْخَزْرَجِ، رَہْطِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، یُقَالُ لَہُ:عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ، حَیْنَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِخْرَاجِ الْمُنَافِقِینَ مِنْ الْمَسْجِدِ إلَی رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ:الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو، وَکَانَ ذَا جُمَّۃٍ، فَأَخَذَ بِجُمَّتِہِ فَسَحَبَہُ بِہَا سَحْبًا عَنِیفًا، عَلَی مَا مَرَّ بِہِ مِنْ الْأَرْضِ، حَتَّی أَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ. قَالَ:یَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَقَدْ أَغْلَظْتَ یَا بن الْحَارِثِ، فَقَالَ لَہُ، إنَّکَ أَہْلٌ لِذَلِکَ، أَیْ عَدُوُّ اللَّہِ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ فِیکَ، فَلَا تَقْرَبَنَّ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّکَ نَجِسٌ۔ ترجمہ:جب حضرت سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے سناکہ رسول اللہ ﷺنے منافقوںکومسجد سے نکالنے کاحکم دیاہے، وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اورایک منافق جس کانام حارث تھا،اسکے سر کے بال بڑے بڑے تھے ،ان سے پکڑلیااورگھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہرلائے تومنافق کہنے لگا:کہ تم نے مجھے ذلیل کیاہے ،آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ تواسکااہل ہے، کیونکہ تومنافق ہے اوراللہ تعالی کادشمن ہے، اللہ تعالی نے تمھارے بارے میں قرآن نازل فرمادیاہے، آج کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے قریب نہ آناکیونکہ توپلید ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: عبد الملک بن ہشام بن أیوب الحمیری المعافری، أبو محمد، جمال الدین (۴:۲۲۴)

اپنے بھائی کونکال دیا

حافظ عماد الدین ابن کثیرالدمشقی المتوفی ( ۷۷۴ھ) لکھتے ہیں وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ إلَی أَخِیہِ زُوَیِّ بْنِ الْحَارِثِ، فَأَخْرَجَہُ مِنْ الْمَسْجِدِ إخْرَاجًا عَنِیفًا، وَأَفَّفَ مِنْہُ، وَقَالَ:غَلَبَ عَلَیْکَ الشَّیْطَانُ ۔ ترجمہ:ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کوپکڑ کرنہایت ذلت کے ساتھ باہر نکال دیااورکہاکہ تجھ پر افسوس ہے کہ تجھ پرشیطان غالب آگیاہے ۔ (السیرۃ النبویۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی (۲:۲۵۱)

مسجد ضرارکے نمازی کے گھر کوآگ لگادی گئی

امام حسین بن محمدالدیارالبکری المتوفی ۰ ۹۶۶ھ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ: وَحَدَّثَنِی الثِّقَۃُ عَمَّنْ حَدَّثَہُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ إسْحَاقَ بْنِ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَارِثَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ الْمُنَافِقِینَ یَجْتَمِعُونَ فِی بَیْتِ سُوَیْلِمٍ الْیَہُودِیِّ، وَکَانَ بَیْتُہُ عِنْد جاسوم ، یشبّطون النَّاسَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَبَعَثَ إلَیْہِمْ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، وَأَمَرَہُ أَنْ یُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بَیْتَ سُوَیْلِمٍ، فَفَعَلَ طَلْحَۃُ. فَاقْتَحَمَ الضَّحَّاکُ بْنُ خَلِیفَۃَ مِنْ ظَہْرِ الْبَیْتِ، فَانْکَسَرَتْ رِجْلُہُ، وَاقْتَحَمَ أَصْحَابُہُ، فَأَفْلَتُوا۔ ترجمہ:عبداللہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺکواطلاع دی گئی کہ سویلم یہودی کے گھر منافقین جمع ہوکر مسلمانوں کو غزوہ تبوک میں شرکت سے منع کررہے ہیں،تورسول اللہ ﷺنے حضرت طلحہ کوایک پوری جماعت کے ساتھ روانہ فرمایااورحکم دیاکہ جاکر ان کے گھر کوآگ لگادیں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے آگ لگادی ضحاک بن خلیفہ گھر کے پچھواڑے سے بھاگنے لگاتو گرگیاتواس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اوراس کے سارے ساتھی بھاگ گئے ۔ تاریخ الخمیس فی أحوال أنفس النفیس: حسین بن محمد بن الحسن الدِّیار بَکْری (۲:۱۲۴)

مسجد ضرارکے نمازی مسجد میں اورمسجد کو آگ لگوادی گئی

فَلَمَّا نَزَلَ بِذِی أَوَانَ، أَتَاہُ خَبَرُ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَالِکَ بْنَ الدُّخْشُمِ، أَخَا بَنِی سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ، وَمَعْنِ بْنِ عَدِیٍّ، أَوْ أَخَاہُ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ، أَخَا بَنِی الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: انْطَلِقَا إلَی ہَذَا الْمَسْجِدِ الظَّالِمِ أَہْلُہُ، فَاہْدِمَاہُ وَحَرِّقَاہُ. فَخَرَجَا سَرِیعَیْنِ حَتَّی أَتَیَا بَنِی سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ، وَہُمْ رَہْطُ مَالِکِ بْنِ الدُّخْشُمِ، فَقَالَ مَالِکٌ لِمَعْنِ: أَنْظِرْنِی حَتَّی أخرج إِلَیْک بتار مِنْ أَہْلِی. فَدَخَلَ إلَی أَہْلِہِ، فَأَخَذَ سَعَفًا مِنْ النَّخْلِ، فَأَشْعَلَ فِیہِ نَارًا، ثُمَّ خَرَجَا یَشْتَدَّانِ حَتَّی دَخَلَاہُ وَفِیہِ أَہْلُہُ، فَحَرَّقَاہُ وَہَدَّمَاہُ، وَتَفَرَّقُوا عَنْہُ۔ ترجمہ:جب منافقین نے مسجد بنائی تورسول اللہ ﷺ کواس میں نماز اداکرنے کاکہاتواللہ تعالی نے منع فرمادیاتورسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام گئے ،جب وہاں پہنچے توحضرت مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ تم یہاں رکومیں آتاہوں وہ گھر سے کھجور کی ٹہنی کوآگ لگاکر آئے جب مسجد پہنچے توعصر ومغرب کے درمیان کاوقت تھااس کوآگ لگادی اورگراکر زمین کے ساتھ ملاد یااورمسجد ضرارکے نمازی سارے بھاگ گئے (السیرۃ النبویۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی (۲:۲۵۱)

مسجد میں خوشیاں

حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ فِی فَوَائِدِہِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ، حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ،عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عِیَاضٍ الْحَضْرَمِیِّ،عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّہُ قَال:صَعَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، وَقَدَ عَصَبَ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ،فقالَ:إِنَّ مِنْکُمْ مُنَافِقِینَ، فَمَنْ سَمَّیْنَاہُ فَلْیَقُمْ فَلْیَخْرُجْ، فَقَال:یَا فُلانُ، قُمْ فَاخْرُجْ فَیَقُومُ الرَّجُلُ فَیُقَنِّعُ رَأْسَہُ حَتَّی یَخْرُجُ، حَتَّی سَمَّی سِتَّۃً وَثَلاثِینَ رَجُلا، کَانَ فِیہِمْ صَدِیقٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَخَرَجَ فَلَقِیَہُ عُمَرُ مُقَنِّعٌ رَأْسَہُ، فَأَخْبَرَ عُمَرُ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَر:لَعَلَّکَ مِنْہُمْ.قَالَ:نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ:بُعْدًا مِنْکَ سَائِرَ الْیَوْمِ.ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّی دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَال:رَضِینَا بِاللَّہِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، ارْضَ عَنَّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْکَ ۔ ترجمہ:حضرت عقبہ بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ ایک دن خطبہ کے لئے منبر پر تشریف فرماہوئے اللہ تعالی کی حمد کی اور پھرفرمایاکہ بے شک تم میں کچھ لوگ منافقین ہیں۔ ہم جس جس کانام لیتے جائیں وہ کھڑاہوکر نکلتاجائے ،پھر رسول اللہ ﷺ نے فرماناشروع کیاکہ کھڑ اہواے فلاں! تو بھی منافق ہے اوریہاںسے نکل جا۔ایک شخص ٹھٹھامارے نکلا۔وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا حضرت عمررضی اللہ عنہ کوملاتو اس نے ساراقصہ سنایاجو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو فرمایا:لگتاہے کہ تو بھی منافق ہے ؟ تو اس نے کہاکہ ہاں میں بھی منافق ہوں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فورافرمایاجادفع دور آج کے بعد میرے قریب نہ آناجب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تورسول اللہ ﷺ ابھی منبر پر ہی تشریف فرماتھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ! ہم اللہ تعالی کے رب اور اسلام کے دین اور آپ ﷺکے نبی ہونے پر راضی ہیں آپﷺبھی ہم سے راضی ہوجائیں اور اللہ تعالی آپﷺ کو خوش فرمادے ۔ (صفۃ النفاق ونعت المنافقین لأبی نعیم: أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن مہران الأصبہانی :۱۹۰)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh