صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2679 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

منگیتر سے باتیں کرنا شرعا کیسا ہے ؟ از : مفتی محمد مکی القادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,153

سوال (Question):

منگیتر سے باتیں کرنا شرعا کیسا ہے ؟ از : مفتی محمد مکی القادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

منگیتر سے باتیں کرنا شرعا کیسا ہے ؟ از : مفتی محمد مکی القادری

حضرت السلام علیکم دو دن پہلے میں نے اپ کو ایک سوال بھیجا تھا گرل فرینڈ کے تعلق سے آج میرا سوال یہ ہیکہ جب لڑکے کی کسی لڑکی سے منگنی ہو جائے اور لڑکا بھی لڑکی کو لوگوں کی موجودگی میں دیکھ لے اور لڑکے کے گھر والوں کی اور لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے بھی اجازت مل جائے لڑکے اور لڑکی دونوں کو آپس میں گفتگو کرنے اور کبھی کبھار ملاقات کرنے کی تو کیا اب لڑکا اور لڑکی فون سے بات اور ملاقات کر سکتے ہیں یا نہیں..؟

الجواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! دیکھیں بابو ! کسی لڑکی سے اگر شادی کی نسبت طے ہوجائے تو شرعی لحاظ سے یہ دراصل نکاح کے وعدہ کی حیثیت رکھتی ہے،محض اس کی وجہ سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا جب تک کہ گواہوں کے روبرو قاعدہ شرعی کی روشنی میں ایجاب و قبول نہ کرلیا جائے، کسی لڑکی سے نسبت طے ہوجانے سے لڑکا لڑکی کا شوہر نہیں قرار پاتا، شرعاً دونوں ایک دوسرے کے لئے اس وقت تک اجنبی ہیں جب تک دونوں کا عقد نکاح نہ ہوجائے، چنانچہ نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کا آپس میں ملاقات کرناجائز نہیں اوربلا ضرورت شرعی باہم بات چیت کرنابھی درست نہیں۔ در مختار ج٥،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی النظر والمس،میں ہے: ولا یکلم الاجنبیۃ إلا عجوزا عطست أو سلمت فیشمتہا و یرد السلام علیہا، وإلا لا انتہی.وبہ بان أن لفظۃ لا فی نقل القہستانی: ویکلمہا بما لا یحتاج إلیہ زائدۃ، فتنبہ- واللہ اعلم بالصواب۔ از۔۔ فقیر محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی و صدر المدرسین دارالعلوم مرکز السنہ خلیل العلوم لکھنؤ یو پی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh