صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #349 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

منی کا شک ہو تو غسل واجب ہے یا نہیں| غسل کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,877

سوال (Question):

منی کا شک ہو تو غسل واجب ہے یا نہیں| غسل کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

احتمال منی سے غسل واجب ہے

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال : مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ سوکر اٹھنے کے بعد کپڑے پر تری نظر آتی ہے مگر ایسا کوئی واضح نشان نظر نہیں آتا احتلام کا اور نہ ہی اس میں ایسی چپ چپاہٹ ہوتی جس طرح کی احتلام میں پائی جاتی ہے لیکن جس طرح احتلام میں بدبو آتی ہے کچھ اسی طرح کی بدبو لگ رہی ہوتی ہے تو کیا فقط بدبو آنے سے غسل فرض ہو جائے گا؟

اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے معاملہ کئی بار ہو چکا ہے نشان ایک احتلام کا جو ہوتا وہ واضح طور پر نظر نہیں آتا ہے لیکن احتلام کی سی بو محسوس ہوتی ہے ۔ حکم شرعی بیان فرما دیں تفصيلا جزاك الله خيرا كثيرا۔

المستفتی: عبداللہ بھائی گجرات۔

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

سو کر اٹھنے کے بعد تری دیکھتا ہے جس میں احتلام کی سی بدبو بھی آتی ہے تو اس سے احتلام کا احتمال پیدا ہوجاتا ہے اور احتمال احتلام سے غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

لہذا اس شخص پر غسل واجب ہے اور رہی یہ بات کہ نشان احتلام کے نشان کی طرح نہیں ہوتا تو بارہا بدن یا ہوا کی گرمی سے منی رقیق ہو کر شکل مذی ہوجاتی ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے”اور شکل اول یعنی چہارم میں کہ منی کا احتمال ہوخواہ یوں کہ منی و مذی محتمل ہوں یا منی و ودی یا تینوں (اور ودی سے مراد ہر وہ تری کہ منی و مذی کے سوا ہو ) ان سب صورتوں میں دونوں حضرات باتفاق روایات غسل واجب فرماتے ہیں ۔ “(ج۱،ح۲،ص۶۳۲)

رد المحتار میں ہے “یجب عندھما فیما اذا شک فی الاولین( ای المنی والمذی ) او فی الطرفین( ای المنی والودی ) او فی الثلاثۃ احتیاطا ولا یجب عند ابی یوسف للشک فی وجود الموجب”(ج۱،ص١٦٣، ش)

واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری جراری فرخ آباد

١٩ صفرالمظفر ٢۴۴۱؁ھ بروز بدھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh