صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1595 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

من و سلویٰ کس نبی کی امت پر نازل ہوا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,559

سوال (Question):

من و سلویٰ کس نبی کی امت پر نازل ہوا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

من و سلویٰ کس نبی کی امت پر نازل ہوا ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ من و سلویٰ کس نبی کی امت پر نازل ہوا، اور کس آیت میں اس کا بیان ہوا، اور یہ کیا چیز تھی، تفصیل ارشاد فرمادیں؟ (سائل قاری عاصم ضلع سرگودھا پاکستا) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب من و سلویٰ بنی اسرائیل پر یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی امت پر نازل ہوا تھا- جیساکہ قرآن کریم میں ہے : وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ۔ سورۂ بقرہ آیت ٥۷ ترجمہ : اور ہم نے تمہارے اوپر بادل کو سایہ بنا دیا اور تمہارے او پر من اور سلویٰ اتارا (کہ)ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا بلکہ اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے رہے۔ سلویٰ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں : من کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ترنجبین کی طرح ایک میٹھی چیز تھی جو روزانہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہر شخص کے لیے ایک صاع(یعنی تقریباً چار کلو) کی بقدر اترتی اور لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے، بعض مفسرین کے نزدیک من سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کسی مشقت اور کاشتکاری کے بغیر عطا کر کے ان پر احسان فرمایا، اور سلویٰ کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا پرندہ تھا، اور اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ پرندہ بھنا ہوا بنی اسرائیل کے پاس آتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ جنوبی ہوا اس پرندے کو لاتی اور بنی اسرائیل اس کا شکار کر کے کھاتے۔ یہ دونوں چیزیں ہفتے کوبالکل نہ آتیں، باقی ہر روز پہنچتیں ، جمعہ کودگنی آتیں اور حکم یہ تھا کہ جمعہ کو ہفتے کے لیے بھی جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو۔ بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی اورذخیرے جمع کیے، وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم ہوئے اور آخرت میں سزاکے مستحق ہوئے۔ خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷،۱ / ۵۶، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱ / ۱۴۲) تفسیر صراط الجنان صفحہ، ١۲۸تا١۲۹« واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh