صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1201 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

موبائل پر اپنا تعارف کرانے کا غلط طریقہ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,555

سوال (Question):

موبائل پر اپنا تعارف کرانے کا غلط طریقہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

موبائل پر اپنا تعارف کرانے کا غلط طریقہ

کسی بھی مسلمان بھائی سے ملاقات کرنے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اسے اولا سلام کیا جائے اور اس کے بعد کلام کیا جائے ، اور اگر سامنے والا اسے نہ جانتا ہو تو اپنا تعارف کرایا جائے، اور اگر ملاقات کی غرض سے کسی کے گھر جانا پڑے تو آواز دے کر یا دروازہ کھٹکھٹا کر پہلے اندر آنے کی اجازت طلب کی جائے۔ جب اجازت مل جائے تو اندر آکر پہلے سلام اور پھر کلام کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب ” قرآن مجید” میں ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ . ( سورۃ النور آیت 27 )  ترجمه: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو ، جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو جب تک سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم اس پر دھیان دو۔ موبائل کے ذریعے گفتگو میں بھی یہی طریقہ اپنایا جائے، یعنی پہلے سلام کیا جائے اور اگر دوسرا شخص کال کرنے والے کو نہیں جانتا ہے تو اپنا تعارف کرایا جائے اور اپنا نام و پتہ صحیح صحیح بتایا جائے ۔ آج کل موبائل پر کچھ لوگ اپنا تعارف اس طرح کراتے ہیں: میں ہوں ، پہچانے ، میں کون ہوں ؟ اچھا ذرا پہچانا تو دیکھوں، اچھا بتاؤ تو میں کون ہوں؟ اس طرح تعارف کرانے کے وجہ سے جواب بھی کچھ اس طرح کے الفاظ سے مثلاً میں نہیں پہچانا ، دے دیا جاتا ہے جس سے احباب کے دلوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ لہذا اس طریقے سے تعارف کرانا غلط ہے اور ایسے کلمے استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے پہلے اپنا نام اور پتہ بتایا جائے تاکہ سامنے والے کو کسی قسم کی اشتباہ نہ ہو ۔ اس تعلق سے ” سنن ابی داؤد” ایک چشم کشا حدیث ملاحظہ فرمائیں: ” عن جابر يقول : استاذنت على النبي فقال: من هذا؟ فقلت: انا، فقال النبی صلی الله عليه وسلم: انا انا كأنه كره ذلك ۔” ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ہیں وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو حضور نے فرمایا :کون ؟ تو میں نے کہا: میں ہوں, تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اس تعارف کو قدرے ناپسند کرتے ہوئے )فرمایا: میں میں کیا ہے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اپنا تعارف کرانے کے لیے مبہم اور غیر واضح لفظ اختیار نہ کیے جائیں۔ اپنا تعارف مکمل نام کے ساتھ ہونا چاہیے۔اگر نام سے بھی کام نہ چلے تو باپ کا نام اور اپنا پتہ بھی بتایا جائے۔ لہذا موبائل پر اس طرح تعارف کرانا” میں ہوں ، پہچانا” غلط ہے ۔ کچھ نواب زادے تو اس قسم کے بھی ہوتے ہیں تو پہلی بار کسی کو کال کرتے ہیں تو ڈائریکٹ پوچھنے لگتے ہیں کہ” آپ کون بول رہے ہیں” یہ طریقہ بھی غلط ہے۔ ایسے نواب زادوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی نوابی صرف گھر تک ہی محدود ہے ، گھر سے باہر نکلنے کے بعد وہ اپنی نوابی شان جیب میں رکھ دیں اور سماجی اصول کی پاسداری کرتے ہوئے اخلاقی روش پر گامزن ہو کر موبائل پر اس قسم کی باتیں نہ کریں۔ اگر وہ پہلی بار کسی کو کال کر رہے ہیں تو خود اپنا نام ، پتہ بتائیں۔ ہاں! اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے موبائل پر مس کال ( Missed call) کرے یا کال ہی کرے مگر پہلی مرتبہ بات نہ ہو سکے تو دوسرا شخص اس بات کا اخلاقی طور پر حق رکھتا ہے کہ وہ کال کرنے والے سے پوچھ سکے کہ ” آپ کون صاحب بول رہے ہیں ؟” اسی طرح جب کسی کو کال کیا جائے اور کالا وصول کرنے والا گھر پر نہ ہو اور گھر کا دوسرا فرد موبائل ریسیو کرکے اس کا نام و پتہ پوچھنے لگے تو کسی قسم کی جھنجھلاہٹ اور غصہ کیے بغیر اپنا نام و پتہ بتا دینا چاہیے تاکہ گھر والوں کو اطمینان ہو جائے ۔ ایسے موقعے پر لوگ اپنا نام و پتہ بتائے بغیر موبائل رکھ دیتے ہیں ، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh