صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2752 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

موجودہ دور میں حرمین شریفین کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,209

سوال (Question):

موجودہ دور میں حرمین شریفین کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

موجودہ دور میں حرمین شریفین کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب : عموما حر میں شریفین کے امام ایک زمانے سے وہابی چلے آرہے ہیں وہابیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنا شرک ہے اور جو رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنائے گا وہ مشرک ہو جائے گا ۔حالانکہ دنیا کے سارے مسلمان رسول گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بناتے ہیں ،ہم لوگ بھی بناتے ہیں اور رسول اللہ کو وسیلہ بنانا حدیثوں سے بھی ثابت ہے ،قرآن پاک سے بھی ثابت ہے، عقل سلیم سے بھی ثابت ہے ، تو یہ وہابی وسیلے کا قائل ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کو مسلمان نہیں جانتے ،مشرک سمجھتے ہیں ،تو جو ہم کو مشرک سمجھے گا اس کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہو سکتی ہے ۔ حدیث پاک میں ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث صحیح ہے: حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی مسلمان کو کافر کہے تو کفر اس کی طرف خود ہی پلٹ جائے گا تو انہوں نے ہم مسلمانوں کو کافرومشرک کہہ کر خود کو کفر و شرک کے دلدل میں پھنسا دیا ہے اور جو کفر و شرک کے دلدل میں خود ہی پھنس جائے اور اپنے کو پھنسا لے اس کے پیچھے سنیوں کی، مسلمانوں کی نماز نہیں ہو سکتی ۔اس لیے آپ لوگ حج کعبہ کے لیے جائیں، عمرہ کے لیے جائیں تو ضرور جائیں ،حج کیجئے، عمرہ کیجئے لیکن اپنے ساتھ ایک عالم کو بھی لے کے جائیے وہ نماز پڑھائیں ان کے پیچھے آپ لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اپنی نماز تنہا پڑھ لیجیے۔ وہاں کے وہابی امام کے پیچھے اپنی نماز مت پڑھیے ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور اللہ کے خوف کی وجہ سے اگر آپ اپنے امام کے پیچھے وہاں پہ نماز پڑھیں گے یا امام نہ ملے توتنہا اپنی نماز آپ خود پڑھیں گے تو وہاں پہ جماعت کے ترک کی وجہ سےآپ کو گناہ نہیں ملے گا بلکہ اللہ تعالی وہ ثواب تنہاپڑھنے کی وجہ سے بھی عطا فرما ئے گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔ ( ماخوذ از بزم سوالات )

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh