شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے کا شرعی حکم
سوال (Question):
میں نے اپنی بیوی کو بہت تیز غصے میں تین طلاقیں دے دیں، کیا طلاق ہو گئی؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق عام طور پر غصے میں ہی دی جاتی ہے۔ اگر غصہ اس حد تک ہو کہ انسان عقل و ہوش کھو بیٹھے (پاگل پن کا دورہ پڑ جائے) اور اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے، صرف اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ جانتا تھا کہ وہ طلاق دے رہا ہے تو غصے کے باوجود طلاق واقع ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔