صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1483 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

مہر نبوت کیا ہے اور مہر نبوت رکھنے کی حکمت کیا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,726

سوال (Question):

مہر نبوت کیا ہے اور مہر نبوت رکھنے کی حکمت کیا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مہر نبوت کیا ہے اور مہر نبوت رکھنے کی حکمت کیا ہے ؟

حضرت جبرئیل امین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدرِ مبارک کو چاق کرنے کے بعد آپ کا قلب مبارک دھویا اور اسے حلم، علم، یقین اور اسلام سے بھردیا اور مہر نبوت کو آپ کے شانوں کے درمیان ثبت کردیا۔ مہر نبوت گوشت کا ایک چھوٹا اُبھرا ہوا ٹکڑا ہے جس پر بال تھے اور وہ آپ کے بائیں شانے کے اوپری حصے پر تھا۔

مہر نبوت رکھنے کی حکمت:

جب آپ کے قلب مبارک کو ایمان وحکمت اور یقین سے لبریز کردیاگیاتو اس پر مہر کردیاگیا۔ جیسے مشک اور موتیوں سے پُر برتن پر مہر کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر اجزاے نبوت کو جمع فرمایا اور اس پر اپنی مہر لگادی، اسی مہر کی برکت ہے کہ آپ کے دشمن کو آپ پر قابو نہیں ملتا تھا اس لیے کہ مہر کردہ شئی محفوظ ہوجاتی ہے۔ یوں ہی اللہ رب العزت نے ہمارے لیے اس دنیا میں انتظام کر رکھا ہے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص کسی شے کو مہر کے ساتھ حاصل کرتا ہے تو لوگوں کا شک دور ہوجاتا ہے اور ان کے مابین اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت اس بات کا واضح اور نمایاں اشارہ دے رہی ہے کہ آپ کا قلب مبارک نہایت محفوظ ہے۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مہر پہلے سے موجود تھی اور ظاہر یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں پیدا ہوئے کہ آپ کے جسم مبارک پر اس کانشان موجود تھا، پھر آپ کی عمر مبارک بڑھتی رہی یہاں تک کہ وہ اسرا ومعراج کی رات کبوتری کے انڈے کی مقدار میں ہوگیا۔ مختلف روایات میں یہ تطبیق ہوسکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ خصوصیت دی گئی اس کے چند مقاصد ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، آپ کے علاوہ یہ وصف کسی اورکوحاصل نہیں ہوا اور یہ کہ نبوت کا دروازہ آپ پر بند کردیاگیا آپ کے بعد کھولا نہ جائے گا۔ حاکم نے حضرت وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس کے نبوت کی علامت اس کے داہنے ہاتھ میں تھی مگر ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نبوت کی علامت آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی۔ (۱) اس صورت میں مہر نبوت کا آپ کی پشت مبارک پر رکھا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف کے وقت مہر نبوت کو اٹھالیا گیا۔  معراج حبیب پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh