صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1125 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,644

سوال (Question):

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

سوال : میت کے اٹھانے سے قبل غلہ اکٹھا کرنا اور اس کو بعد دفن اس وقت کے فقیروں کو تقسیم کرنا اور قبروں کو کھودنے والے غیر مسلم لونیوں کو دینا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ موت کے بعد جو غلہ اکٹھا کیا جاتا ہے عموماً وہ میت کے ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے اور وہ غلہ صدقہ نافلہ ہے جسے ہر مالدار اور فقیر کو لینا جائز ہے. لہذا اس زمانہ کے فقیروں کو مذکورہ غلہ دینا بلاشبہ جائز ہے. البتہ غیر مسلموں کو دینا ہر گز جائز نہیں کہ یہاں کے غیر مسلم حربی ہیں اور کافر حربی پر کچھ بھی صدقہ کرنا جائز نہیں. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں بحرالرائق وغیرہ میں تصریح ہے کہ کافر حربی پر کچھ تصدق کرنا اصلا جائز نہیں. ١ھ. ( الملفوظ اول صفحہ 106) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی اشتیاق احمد الرضوی المصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh