صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1836 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

میت کے ورثاء میں تین بیٹے پانچ بیٹیاں ایک زوجہ دو بہنیں اور دو بھائی موجود ہوں تو اسکی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,990

سوال (Question):

میت کے ورثاء میں تین بیٹے پانچ بیٹیاں ایک زوجہ دو بہنیں اور دو بھائی موجود ہوں تو اسکی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

میت کے ورثاء میں تین بیٹے پانچ بیٹیاں ایک زوجہ دو بہنیں اور دو بھائی موجود ہوں تو اسکی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسائل میں۔ 1۔ زید مرحوم کے ورثاء میں تین بیٹے 5 بیٹیاں اور ایک زوجہ دو بہنیں اور دو بھائی موجود ہیں۔ لہذا مرحوم کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی۔ 2۔ کیا بہنوں کی شادی کی ذمہ داری ازروئے شرع بھائیوں پر ہے۔؟ 3۔ بہنوں کو جو حصہ وراثت سے ملے گا۔ کیا ان کی مرضی سے وہ حصہ شادی میں لگایا جا سکتا ہے۔ اور جس بیٹی کی شادی مرحوم نے اپنی حیات میں کردی تھی۔ کیا اسے بھی حصہ ملے گا؟ 4۔ جو لوگ زبردستی بہنوں کو بھائیوں کے برابر حصہ دلوائیں۔ شرعا انکا حکم کیا ہے؟ بینوا تواجرو المستفتی۔۔۔ محمد عالم ساکن اللہ پور۔ ۔ رامپور الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب (۱) صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ما یقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین زید کی جائداد کے کل ۸۸ حصے کئے جائیں،۱۱ حصے بیوی کو دیں، بقولہ تعالی “فان كان لكم ولد فلهن الثمن”( سوره نساء، آیت نمبر: ۱۲) اور ۴۲ حصے تینوں بیٹوں کو ہر ایک کو چودہ چودہ، بقولہ تعالی “يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين”( سورہ نساء ، آیت نمبر: ۱۱) اور ۳۵ حصے پانچوں بیٹیوں کو ہر ایک کو سات سات- بھائی وبہنیں مرحوم کے بیٹوں کی موجودگی میں محروم رہیں گے- فتاوی عالمگیری میں ہے “ویسقط الاخوة والاخوات بالابن وابن الابن وان سفل”(ج ۶ ص ۵۰۰/ کتاب الفرائض/ باب العصبات/ دار الکتب العلمية، بیروت، لبنان)-واللہ تعالی اعلم (۲) باپ کی وفات کے بعد بہنوں کی کفالت اور دیکھ بھال بھائیوں کے ذمہ ہے اگر بہنوں کے پاس اپنا ذاتی مال ہے تو پھر شادی کے اخراجات ان کے مال سے کئے جائیں گے اگر ان کے پاس مال نہیں ہے تو پھر بھائیوں کی اخلاقی طور یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بہنوں کی شادی کا انتظام کریں- حدیث شریف میں ہے “عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات أو ابنتان أو أختان فأحسن صحبتهن واتقى الله فيهن فله الجنة”(سنن الترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/باب ما جاء فى النفقة على البنات والأخوات ،ج ۴ ص ۲۸۲ /المکتبة الاسلامية) واللہ تعالی أعلم (۳) بہنوں کو وراثت میں جو حصہ ملا ہے وہ انکی مرضی سے انکی شادی میں خرچ کرسکتے ہیں- جس بیٹی کی شادی باپ نے اپنی زندگی میں کروا دی ہو باپ کی وفات کے بعد وراثت میں اس بیٹی کا بھی حصہ ہے اسے دینا ضروری ہے-واللہ تعالی أعلم (۴) شریعت مطہرہ میں مرد کا حصہ عورت کے حصہ سے دوگنا ہے اسی کے مطابق وراثت کی تقسیم لازم ہے جو لوگ زبردستی بہنوں کو بھائیوں کے برابر حصہ دلوائیں وہ ظالم وجفاکار اور حق العبد میں گرفتار ہیں انہیں چاہیے کہ ایسی قبیح حرکت سے باز آئیں اور شریعت مطہرہ کے مطابق میت کا ترکہ اسکے وارثوں میں تقسیم کروائیں- واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پورہ تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر ۲۳/ذی قعدہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۲/جون ۲۰۲۲ء الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم افتا ودرس جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh