صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2007 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

میراث کا مسئلہ | ترکہ کا ایک مسئلہ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,248

سوال (Question):

میراث کا مسئلہ | ترکہ کا ایک مسئلہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

میراث کا مسئلہ | ترکہ کا ایک مسئلہ

سوال: ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں ۔ ہم نے ان کے انتقال کے بعد میراث تقسیم کردی تھی ۔ ایک درخت بچا تھا جوہمارے درمیان مشترکہ تھا اورسب لوگ اس کا پھل کھاتے تھے ۔ گزشتہ دنوں وہ سوکھ گیا ۔ ہم نے اسے فروخت کردیا ، جس سے ہمیں آٹھ ہزار روپے ملے ۔ ہماری والدہ زندہ ہیں ۔ ہم تین بھائی اورایک بہن ہیں۔ اس رقم کو کیسے تقسیم کریں؟ براہِ کرم رہ نمائی فر ما ئیں ۔ سائل : محمد عمران جالنہ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب کسی شخص کا انتقال ہوا اوروہ صاحبِ اولاد ہو اوراس کی بیوی بھی زندہ ہوتواس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی : (۱) بیوی کوآٹھواں حصہ ملے گا (النساء :۱۲) (۲)  بقیہ مال وراثت لڑکوں اورلڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا ۔ (النساء :۱۱) صورتِ مسئلہ میں آٹھ ہزار کا آٹھواں حصہ ایک ہزار روپے ہوئے ۔ یہ اپنی والدہ کودے دیجئے ۔ بقیہ سات ہزار روپے میں دو دو ہزار روپے تینوں بھائیوں میں تقسیم کرلیجئے اورایک ہزار روپے اپنی بہن کو دے دیجئے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh