صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #500 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پرائز بانڈ (Prize Bond) کے انعام کا حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 6,261

سوال (Question):

کیا حکومت کی طرف سے ملنے والے پرائز بانڈ کا انعام حلال ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پرائز بانڈ کی اصل رقم جو آپ نے دی ہوتی ہے وہ محفوظ رہتی ہے، اس لیے یہ جوا (Gambling) تو نہیں، لیکن حکومت ان جمع شدہ رقوم کو سودی کاموں میں استعمال کر کے اس کے منافع سے انعام دیتی ہے، اس لیے شرعاً یہ انعام سود کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا استعمال قطعی حرام ہے۔ اگر انعام نکل آئے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh