صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #463 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

میڈھک کا خون پاک ہے یا ناپاک اگر کپڑے پر لگ جاۓ تو دھونا پڑےگا یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,109

سوال (Question):

میڈھک کا خون پاک ہے یا ناپاک اگر کپڑے پر لگ جاۓ تو دھونا پڑےگا یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مینڈک میں خون نہیں ہوتا

السلام علیکم ورحمتہ و برکاتہ

سوال : میڈھک کا خون پاک ہے یا ناپاک اگر کپڑے پر لگ جاۓ تو دھونا پڑےگا یا نہیں؟

المستفتی:عبدالغنی قادری کجھ گجرات

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب –

مینڈک خشکی کا ہو یا پانی کا اس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا البتہ جنگل کا وہ بڑا مینڈک جس میں بہتا خون ہوتا ہے اس کا خون ناپاک ہے اگر ایک درہم سے زائد کپڑے پر لگ جاے تو اس کا دھلنا فرض ہے اور ایک درہم سے کم کی صورت میں دھلنا سنت ہے۔

ہدایہ میں ہے “وموت ما یعیش فی الماء فیہ لا یفسدہ کالسمک والضفدع والسرطان، لانہ لا دم فیھا اذالدموی لا یسکن الماء، والضفدع البحری والبری فیہ سواء وقیل البری مفسد لوجود الدم وعدم المعدن” ملتقطا

(ج١، ص٢٢)

بہار شریعت میں ہے “خشکی اور پانی کے مینڈک کا ایک حکم ہے یعنی اس کے مرنے بلکہ سڑنے سے بھی پانی نجس نہ ہوگا مگر جنگل کا بڑا مینڈک جس میں بہنے کے قابل خون ہوتا ہے اس کا حکم چوہے کی مثل ہے”

(ج ٢،ص٣٣٨)

واللہ تعالی اعلم

  مفتی شان محمد المصباحی القادری 

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

١٢اکٹوبر٢٠١٨

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh