صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1152 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,824

سوال (Question):

نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟

سوال : بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس کی گود میں تین ماہ کی لڑکی بھی تھی. بیوی اپنے میکے میں گزر کر رہی ہے. لڑکی تقریباً سات سال کی ہوگئ تو کیا اس لڑکی کا نکاح کرنے میں بکر سے اجازت ضروری ہے؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ جب تک لڑکی نابالغ ہے اس کا نکاح کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری ہے . اور بالغ ہونے کے بعد کفؤ کے ساتھ شادی کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری نہیں. وھو سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ٦٧٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh