صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1198 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ناراض باپ اگر لڑکے کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,237

سوال (Question):

ناراض باپ اگر لڑکے کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ناراض باپ اگر لڑکے کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ؟ کہ بکر اپنے حقیقی بیٹے زید سے حقوق والدين کی ادائیگی کو لیکر سخت ناراض ہے بکر چاہتا ہے اپنی میراث سے زید کو بے دخل کردوں اور اپنی جائداد کا وارث نہ بناؤں . تو کیا شریعت مصطفوی کی روشنی میں زید ایسا کر سکتا ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی : غلام خیرالبشر نظامی سعی بزرگ کبیر نگر . 9984525510 الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ کسی کی موت پر وارثوں کا اس کی جائیداد کا مالک ہوجانا حکمِ شرع ہے اور حکمِ شرع کو کوئی شخص ساقط نہیں کرسکتا ہے ۔ اس لیے اگر بکر یہ چاہے کہ میرے حقوق کو ادا نہ کرنے والا بیٹا میرے مرنے کے بعد میری جائیداد سےحصہ نہ پائے تو شرعاً ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اور وہ جسے لوگ اپنے خیال میں “عاق کرنا” بولتے ہیں اور اس کا اعلان واشتہار کرادیتے ہیں فضول ہے اور شریعتِ طاہرہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہاں! اگر بکر اپنی زندگی اور صحت کے زمانہ میں چاہے تو دوسرے وارثوں کو اپنی جائیداد کا مالک بناکر قبضہ دلادے تو اس طرح زید بکر کی جائیداد میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوگا، لیکن کسی وارث کو محروم کرنے کی نیت سے ایسا کرنا گناہ اور جنت سے اپنے حصہ سے محرومی کا سبب ہے ۔ ہاں! اگر کوئی وارث فاسق آوارہ اور بد کردار ہو جس سے یہ خطرہ ہو کہ وہ چھوڑی ہوئی جائیداد کو گناہوں میں خرچ کرے گا تو زندگی میں اپنی جائیداد صدقہ کردینا یا دوسرے وارثوں کو ہبہ کردینا جائز ہے۔ امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: “بے علموں کے ذہن میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کاعلاقہ زوجیت قطع کرنے کے لئے شرع مطہر نے طلاق رکھی ہے کہ اس کا اختیار بدستِ شوہر ہے اور اس کے لئے کچھ الفاظ ہیں کہ جب شوہر سے صادر ہوں طلاق واقع ہو۔ یوں ہی اولاد کاعلاقہ ولدیت قطع کرنے کے لئے عاق کرنا بھی کوئی شرعی چیز ہے جس کا اختیار بدستِ والدین ہے اور اس کے لئے بھی کچھ الفاظ مقررہیں کہ والدین ان کا استعمال کریں تو اولاد عاق ہوکر ترکہ سے محروم ہوجائے۔ مگریہ محض تراشیدہ خیال ہیں، جس کی اصل شرع مطہر میں اصلاً نہیں، نہ علاقہ ولدیت وہ چیز ہے کہ کسی کے قطع کئے منقطع ہوسکے، مگر معاذ ﷲ بحالتِ ارتداد والعیاذ باللہ تعالٰی۔ شرع میں “عقوق” ناحق نافرمانی والدین کوکہتے ہیں، کہ یہ کارِ اولاد ہے، جوشخص اپنے ماں باپ کاحکم بے عذرِ شرعی نہ مانے گا یا معاذ ﷲ انہیں آزار پہنچائےگا وہی “عاق” ہے، اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں، بلکہ اپنی فرطِ محبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں، مگر کوئی شخص “عاق” ہونے کے سبب ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا۔ اورجو فرمانبرداری والدین میں مصروف رہے اور وہ بے وجہ اس سے ناراض رہیں یابحکم “لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ ﷲ تعالٰی” کسی مخالفِ شرع بات میں ان کا کہا نہ مانے اور وہ اس سبب سے ناخوش ہوں تو ہرگزعاق نہیں۔ اور اگر کوئی شخص لاکھ بار اپنے فرماں بردار خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ “میں نے تجھے عاق کیا” یا “اپنے ترکہ سے محروم کردیا” تو نہ اس کایہ کہنا کوئی نیا اثر پیدا کرسکتا ہے، نہ وہ بدیں وجہ ترکہ سے محروم ہوسکے۔ یہ شخص اگر اپنی جائداد اپنے بیـٹے کو محروم کرنے کے لئے ان بے نکاحی عورت کے لڑکوں کو دے دے گا تو دنیا میں یہ کاروائی اس کی اگرچہ چل جائے مگر عند ﷲ ماخوذ ہوگا۔حدیث میں ہے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : من فرّ من میراث وارثہ قطع ﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ رواہ ابن ماجہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔” (فتاوی رضویہ ج١٠ص٣۴٠ ، ٣۴١) نیز تحریر فرماتے ہیں: عاق کرناشرع میں کوئی چیز نہیں، نہ وہ اس کے سبب ترکہ سے محروم ہوسکے، ہاں! اگر وہ واقعی فاسق وآوارہ ہے تویہ جائز ہے کہ اپنا سب مال بذریعہ وقف علی الاولاد یابذریعہ بیعنامہ یاجداجدا تقسیم کرکے قبضہ دے کربذریعہ ہبہ نامہ اپنی بیٹیوں کے نام کردے یوں بیٹے کو آپ ہی کچھ نہ پہنچے گا۔” (فتاوی رضویہ ١٠ص۴٩٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٨/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٢٢/جنوری ٢٠٢١ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh