Fatwa #1391
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,444
سوال (Question):
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نام لکھنے میں غلطی کر دے تو طلاق ہوگی یا نہیں؟
مسئلہ:- از : اکرام الدین قادری ، اندولی ، انصاری بازار، بستی کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ عبد الصمد کی شادی اس کے ماموں کی لڑکی مہرالنساء سے ہوئی ۔ کچھ دنوں بعد وہ باہر چلا گیا اور وہاں سے اس نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں اپنے خسر اور ساس کو ہندی میں خط لکھا جس کی اردو درج ذیل ہے۔ جناب ماموں صاحب وممانی صاحبہ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته دیگر احوال یہ ہے کہ ماموں صاحب، و ممانی صاحبہ اور مہر النساء میں آپ لوگوں سے بہت شرمندہ ہوں ہو کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ مجھے معاف کرنا کیونکہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اپنے ہوش و حواس میں عبدالحکیم ولد عبد الصمد بنت مہر النساء کو تین طلاق دے دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں مجھے معاف کرنا مہر النساء کیوں کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ۔ تم اپنی شادی ضرور کر لینا ۔ ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ دو چار مہینے میں جتنا مجھ سے ہو سکے گا اور ساتھ میں مہر کا پیسہ بھی بھیج دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اس تحریر کی روشنی میں مہر النساء پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اگر پڑی تو کون سی طلاق ؟ اگر عبدالصمد پھر اپنی اسی بیوی مہر النساء کو رکھنا چاہیے تو اس کی کیا صورت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ عبدالصمد نے اپنے خسر کو جو خط لکھا ہے اس سے ظاہر ہے کہ عبد الصمد نے اپنی زوجہ مہرالنساء ہی کو طلاق دی ہے ۔ البتہ نام لکھنے میں اس سے غلطی ہوگئی لکھنا چاہیے تھا مہرالنساء بنت حقیق اللہ مگر لکھ دیا بنت مہرالنساء اس جملے کے بعد لکھا ہے۔ ” مجھے معاف کرنا مہر النساء الخط” مہر النساء سے خطاب کرنا بتا رہا ہے مہر النساء ہی کو طلاق دینے کے لئے یہ جملہ لکھا ہے اس لیے زید نے جس وقت یہ خط لکھا اسی وقت اس پر تین طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اور وہ اس کی نکاح سے ایسی نکل گئی کہ بغیر حلالہ ان دونوں کا آپس میں نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے ” فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ ۲ ع١٣) عالمگیری جلد اول ص ٣٥٨ میں ہے : قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق . وان نوي امراته في هذه الوجود ة طلقت امراته في القضاء وففيها بينه وبين الله تعالى. كذا في خزانة المفتيين. وعلى هذا اذا سمي بغير اسمها ولا نيه له في طلاق امراته فان النظام تلاقي امراته في هذه الوجود طلقه امراته كذا في الذخيره. اھ ملخصا “ اس صورت میں اگر عبد الصمد مہر النساء کو رکھنا چاہتا ہےتو بطریق شرع بعد حلالہ مہر النساء سے نکاح کر سکتا ہے بغیر حلالہ نکاح ہرگز جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9