صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1776 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ از مفتی محمد رضا مرکزی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,183

سوال (Question):

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ از مفتی محمد رضا مرکزی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نانا کی ملکیت میں نواسوں کا حصہ

سوال : کیا نانا کی ملکیت سے نواسوں کو حصہ ملتا ہے کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : حافظ مبشر رضوی اسلامپورہ مالیگاوں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب تقسیمِ وراثت کے شرعی اصولوں کے مطابق نانا کی وراثت میں نواسے کا حصہ مقرر نہیں ہے۔ یہ اس وقت حصہ پاتا ہے جب اس سے قریبی ورثاء موجود نہ ہوں۔ اگر نانا کے ورثاء میں اصحاب الفرائض (باپ، دادا، مادری بھائی، بیوی، ماں، سگی دادی و نانی، بیٹی، پوتی/ پڑپوتی، حقیقی بہن، پدری بہن، مادری بہن) اور عصبات (بیٹا‘ اس کی عدم موجودگی میں پوتا پھر پڑپوتا، باپ‘ اس کی عدم موجودگی میں دادا پھر پڑدادا، بھائی‘ اس کی عدم موجودگی میں بھتیجا، چچا‘ اس کی عدم موجودگی میں چچا کا بیٹا) میں سے کوئی نہ ہو تو ذوی الارحام کی حیثیت سے نواسے اور نواسی کو لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ کی تقسیم سے حصہ ملے گا یعنی دو حصے نواسے کو اور ایک حصہ نواسی کو ملے گا۔ اگر قریبی ورثاء اپنی رضامندی سے نواسے کو کچھ دینا چاہیں تو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے… وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh