صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2773 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم کہنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,495

سوال (Question):

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم کہنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

?Huzoor Ko Yateem Kahna Kaisa Hai

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ . بعدہ عرض خدمت یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم کہنا کیسا ہے؟۔مدلل جواب عنایت فرمائیںنوازش ہوگی۔ العارض: عبد الجبار امجدی پاکبڑا مرادآباد یوپی وعلیکُم السّلام و رحمة اللہ و برکاتہ باسمہ تعالیٰ جل و علا

الجواب اللّٰھم ھدایت الحق و الصواب

سید الانبیا، خاتمِ پیغمبراں، فخر الرسل، مالکِ کل، رحمتِ عالم، باعثِ ایجادِ عالم، صاحبِ ابرار و اخیار، نائب پروردگار حضور نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی شان عالیہ مقدسہ معظمہ مبارکہ اور معتبرہ میں یتیم و فقیر اور مسکین وغیرہ جیسے الفاظ کا استعمال شرعاً قطعاً اشد ناجائز و حرام ہے اور اگر بطرز طنز و تحقیر ہو تو یقیناً کفر ہے۔ آقائے کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم کا تذکرۂ مبارک باعظمت اسماء کے ساتھ کرنا لازم و فرض ہے۔ خزانة الاکمل مقدسی و درمختار اواخر شتے میں ہے:” یجب ذکرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باسماء معظمة فلایجوز ان یقال منہ فقیر غریب مسکین،،۔ زرقانی علی المواہب میں ہے:” قال اللہ تعالیٰ ووجدک عائلا فاغنی نص علی انہ اغناہ بعد ذالک فزال عنہ ذالک الوصف فلایجوز وصفہ بہ بعد،،۔ اسی میں ہے: ” الیتیم من الیتم موت الاب قبل بلوغ الولد اومن الانفراد کدرۃ یتیمۃ کما قیل فی قولہ تعالٰی الم یجدک یتیما ای واحد ا فی قریش عدیم النظیر انتہی ومذہب مالک لایجوز علیہ ھذا الاسم،،۔ (شرح الزرقانی علی المواہب ) لفظ یتیم، یتم سے ہے یعنی بچہ کے بالغ ہونے سے پہلے باپ کا فوت ہونا، یا اس کا معنی منفرد اور یکتا ہونا ہے جیسے کہا جاتاہے دریتیم (یکتا موتی) جیساکہ اللہ تعالی کے اس ارشاد گرامی ”کیااس نے تجھے یتیم نہیں پایا” کے تحت مفسرین نے کہا ہے یعنی قریش میں آپ کی مثال نہیں ملتی یکتا ہیں انتہی، امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کافتوٰی ومذہب یہ ہے کہ اس نام (یتیم) کا اطلاق آپ پر جائز نہیں۔ نسیم الریاض جلد رابع ص 450 میں ہے: ” الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لایوصفون بالفقرولایجوز ان یقال لنبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر وقولہم عنہ الفقر فخری لااصل لہ کما تقدم،،۔ ( نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض، الوجہ الخامس ان لایقصد، ج4،) تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو فقرکے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتا، ہمارے نبی وآقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیر کہنا جائز نہیں، باقی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں جو منقول ہے ”الفقر فخری” (فقر میرافخر ہے) اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ گزرا۔ امامِ اہلسنت، مجدد دین و ملت حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یتیم و مسکین، غریب و بیچارے کہے جانے کے متعلق ایک استفتا کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:” حضورِ اقدس، قاسم النعم، مالک الارض و رقاب امم، معطی منعم، قثم قیم، ولی والی، علی عالی، کاشف الکرب، رافع الرتب، معین کافی، حفیظ وافی، شفیع شافی، عفو عافی، غفور جمیل، عزیز جلیل و باب کریم، غنی عظیم، خلیفۂ مطلق حضرت رب، مالک الناس و دیان العرب،ولی الفضل جلی الافضال، رفیع المثل، ممتنع الامثال، صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و علی آلہ و صحبہ و شرف و اعظم کے شان ارفع و اعلیٰ میں الفاظِ مذکورہ کا اطلاق ناجائز و حرام ہے،،۔( فتاویٰ رضویہ شریف، ج7، ص126) نسیم الریاض ص 378 میں ہے:” قال الزرکشی کالسبکی لایجوز ان یقال لہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقیر او مسکین وھو اغنی الناس بالله تعالیٰ قال لا سیما بعد قولہ تعالیٰ ووجدک عائلا فاغنی، و قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللّٰھم احینی مسکینا، اراد بہ المسکنة القلبیہ بالخشوع۔ والفقر فخری باطل، لا اصل لہ کما قال: الحافظ ابن حجر العسقلانی،،۔ شفا شریف امامِ اجل قاضی عیاض صدر باب اول قسم رابع میں ہے: ” افتی فقہاء الاندلس بقتل ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی وصلبہ بما شہد علیہ من استخفافہ بحق النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و تسمیتہ ایاہ اثناء مناظرتہ بالیتیم وختن حیدر وزعمہ ان زھدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لم یکن قصدا ولو قدر علی الطیبات اکلھا الی اشباہ لھذا،، ۔ ( الشفاء بتعریف حقوق المصطفی، الباب الاول فی بیان ماھو۔۔۔ الخ، ج2، ص210، مطبع شرکت صحافیہ ترکی) فقہاء اندلس نے ابن حاتم المتفقۃ الطلیطلی کے قتل اور پھانسی لٹکانے کا فتوٰی دیا اس کے خلاف یہ شہادت ملی کہ اس نے دوران مناظرہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقام کی بے ادبی کرتے ہوئے آپ کو یتیم اورحیدر کا سسر کہا، اور اس کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا زھداختیاری نہ تھا اگر آپ طیبات پرقادر ہوتے تو ضرور انھیں استعمال میں لاتے، اس کی مثل گستاخی کے دیگر اقوال ۔ امام ابنِ حجر شرحِ ہمزیہء مبارکہ میں زیرِ قول ماتن امام محمد بصیری قدس سرہ—- وسع العالمین علما و حلما= فھو بحر لم تعیہ الاعبا۔۔۔۔ مستقل دنیاک ان ینسب الامساک منھا و الاعطاء، فرماتےہیں: ” فی السیف المسلول للتقی السبکی عن الشفاء واقرہ ان فقہاء الاندلس افتوا باراقۃ دم من وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالفقر فی اثناء مناظرتہ بالیتیم ثم زعم ان زھدہ لم یکن قصد او لوقدر علی الطیبات اکلھا و ذکر البدر الزر کشی من بعض الفقہاء المتاخرین انہ کان یقول لم یکن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیر من المال ولاحالہ حال الفقر بل کان اغنی الناس باﷲ تعالٰی قد کفی امردنیا فی نفسہ وعیالہ وکان یقول فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللہم احینی مسکینا ان المراد استکانۃ القلب لاالسکنۃ ھی ان لایجد مایقع لوقعاس کفایتہ وکان یشدد التکبر علی من یعتقد خلاف ذٰلک اھ واماخبر الفقر فخری وبہ افتخر فموضوع وقد صح انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استعاذ من فتنۃ الفقر کما استعاذ من فتنۃ الغنی،،۔ ( شرح الہمزیہ للامام ابن حجر مکی دستیاب نہیں یہ عبارت مختصرا الفتوحات الاحمدیہ ص 47 مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ مصر پرملاحظہ ہو۔) امام تقی سبکی نے ”السیف المسلول” میں ”الشفاء” سے نقل کرکے اسے ثابت رکھاہے کہ فقہاء اندلس نے اس شخص کے قتل کا فتوٰی جاری فرمایا جس نے دوران مناظرہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فقیرو یتیم کہا اور یہ عقیدہ رکھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا زہداختیاری نہ تھا اگر آپ اشیاء طیبہ پر قادر ہوتے توانھیں استعمال میں لاتے، امام بدرزرکشی نے بعض متاخرین فقہاء سے نقل کیا کہ فرمایا کرتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات گرامی مال کے اعتبار سے فقیر نہیں اور نہ آپ کاحال، حال فقرہے بلکہ اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے غنی بنایا ہے آپ اپنی ذات اور عیال میں دنیا کے کسی معاملہ میں ہر گز محتاج نہیں اور یہ بھی فرماتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جو ارشاد گرامی ہے ”اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ” سے دل کی عاجزی مرادہے نہ کہ وہ غریبی ومحتاجی جو فقرکا مترادف ہے یعنی وہ محتاج جو قوت لایموت نہ رکھتا ہو، اور جو اس کے خلاف ذہن وعقیدہ رکھتاہو اس پر سخت ناراض ہوتے۔ رہا معاملہ حدیث ”فقر میرا فخر ہے اوراس پر میں فخرکرتاہوں” کا، تویہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے صحیح طورپر ثابت ہے کہ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالداری کے فتنہ سے پناہ مانگتے۔ ان الفاظ کے ناجائز اورحرام ہونے پر یہ عبارات متظافرہ ہیں اور فتوائے فقہائے اندلس وامام ابوالحسن قابسی وتقریرات امام قاضی عیاض وامام تقی الملۃ والدین سبکی وتوضیحات علی قاری میں ان پر حکم کفر ہے۔ حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس حوالے سے مزید تحریر فرماتے ہیں:” اقول وباللہ التوفیق، توفیق جامع وتحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ حکم قصدی میں ہویا وصف عنوانی میں اگر قول قائل کے سیاق یاسباق یا سوق یامساق سےطرز تنقیص ظاہر وثابت ہو یقینا کفرہے، اور اگر ایسا نہیں اور قائل جاہل ہے اور اس سے صدور نادر ہو اور وہ اس پر غیر مصر توہدایت وتنبیہ وزجر وتہدیدکریں اورحاکم شرع اس کے مناسب حال تعزیر دے کہ وہ ضرور سزاوار سزا ہے۔ اور اگر قائل مدعی علم ہے یا ایسے کلمات کا عادی یابعد تنبیہ بھی ان پر مصر تومریض القلب بددین گمراہ ومستحق عذاب شدید ہے، سلطان اسلام اسے قتل کرے گا اور زمین کو اس کی ہستی ناپاک سے پاک اورعام مسلمانوں کو اس کی صحبت ومجالست سے احترازلازم اور اسے واعظ یا امام نماز بنانا اس کا وعظ سننا اس کے پیچھے نماز ممنوع وحرام،،۔( فتاویٰ رضویہ، ج7، ص127) واللہ تعالیٰ و رسولہ الاعلیٰ اعلم و اتم بالصواب کتبہ:عاصی محمد امیر حسن امجدی رضوی ‘ خادم الافتا و التدریس: الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی۲۱/ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۵ھ بروز بدھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh