Fatwa #1180
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
11,165
سوال (Question):
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟
سوال : زید نے بلا جبر و اکراہ راضی برضا نسبندی کرا لیا اب از روئے شرع اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ ایک نام نہاد مولوی نے کہا کہ اگر زید نے اس گناہ سے نادم ہو کر علی الاعلان مجلس میں اللہ سے توبہ و استغفار کر لیا تو اب زید کے پیچھے نماز درست اور جائز ہے تو کیا مولوی مذکور کا یہ کہنا صحیح ہے؟ مفصل جواب سے نوازیں. کچھ پیر اور مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ اس کا توبہ قبول ہی نہ ہوگا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چوری، شراب نوشی،زناکاری اور سود خوری بلکہ کفر و شرک جیسے گناہ عظیم جب توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں تو نسبندی کا گناہ بھی توبہ سے معاف ہو جائے گا. قال اللہ مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ٥ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابًا . پارہ ١٩ رکوع ٤ اور حدیث شریف میں ہے ” التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ” لہذا نسبندی کرانے والا اگر اعلانیہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو . واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 277
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh