صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #238 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوگی یا نہیں

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,267

سوال (Question):

نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوگی یا نہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوگی یا نہیں

سوال :۔

زید نے اپنی بیوی ہندہ کوشراب کے نشہ میں کہا ’’ میں نے طلاق دیا ،طلاق دیا ۔ دس منٹ کے بعد پھر کہا : میں نے طلاق دیا ، صور ت مسئولہ میں شریعت ِ مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔

المستفتی :۔ محمد مختار احمد

جواب :

شوہر اگر نشہ کی حالت میں بھی طلاق دے تو واقع ہو جاتی ہے ۔ دُرِّ مختار میں ’’ ویقع طلاق کل زوج بالغ و عاقل ولو تقدیرا ’’بدائع‘‘ لیدخل سکران ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے’’ و طلاق السکران واقع اذا سکر من الخمر او النبیذ و ھو مذھب اصحابنا رحمھم اللہ تعالیٰ کذا فی المحیط ‘‘

صورت مسئولہ میں اگر واقعی زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا پھر کچھ دیر بعد کہامیں نے طلاق دیا تو ہندہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ ہمیشہ کے لئے زید پر حرام ہوگئی اب بغیر حلالہ کے ہندہ کا زید سے نکاح بھی نہیں ہوسکتا ۔ لقولہ تعالیٰ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجا غیرہ ۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

حضرت علامہ مفتی محمود اختر القادری ممبئ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh