صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #802 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,272

سوال (Question):

نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟

سوال: زید نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دے دی ہے اور اس بات کا وہ اور اس کی بیوی اقرار بھی کررہے ہیں ۔ اس پر کچھ مولوی حضرات یہ راستہ نکالا کہ زید نے رات کی تنہائی میں طلاق دیا ہے اس وقت کوئی گواہ نہیں تھا لہذا طلاق نہیں ہوئی ۔ اس سلسلےمیں حکم شرع کیا ہے واضح فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہے اور کوئی سنی مولوی ایسا نہیں کہے گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زید نے نشے کی حالت میں جو طلاق دی ہے وہ پڑ گئی ۔ کوئی بھی شوہر نشے کی حالت میں طلاق دے ، تنہائی، یا مجمع، حتیٰ کہ اگر بیوی کو بھی اس کا علم نہ ہو تو بھی طلاق پڑجائے گی، کیونکہ طلاق دینے کا مکمل اختیار شوہر کو ہے ۔ شوہر کے قبضے میں ہی نکاح کی گرہ ہے ۔ وہ جب چاہے نکاح کی گرہ کھول دے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh